بے نظیر انکم سپورٹ: سماجی تحفظ اور فراہمیٔ روزگار کے درمیان اصل توازن/محمد امین اسد

جب بھی پاکستان کے بجٹ میں بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کے لیے خطیر رقم مختص کی جاتی ہے تو ایک مانوس اعتراض فوراً سر اٹھاتا ہے کہ اگر یہی وسائل صنعتوں، کارخانوں اور روزگار کے مواقع پر صرف کیے جائیں تو قوم محتاجی سے نکل سکتی ہے۔ بظاہر یہ بات دل کو لبھاتی ہے، مگر درحقیقت یہ ایک ادھورا تصور اور غلط مفروضہ ہے جو انسانی زندگی کی فوری ضروریات اور ریاست کی ہمہ گیر ذمہ داری کو نظرانداز کرتا ہے۔ ایک بیوہ، ایک عمر رسیدہ، ایک بے سہارا یا دودھ پلانے والی ماں، یا ایسا گھرانہ جس کی بقا ہی خطرے میں ہو، اس کے لیے صنعتی ترقی کے طویل منصوبے نہیں بلکہ فوری سہارا ناگزیر ہوتا ہے۔ یہی وہ مقام ہے جہاں سماجی تحفظ کا نظام محض نقد امداد تک محدود نہیں رہتا بلکہ ایک مربوط حکمتِ عملی کے طور پر سامنے آتا ہے، جس میں باقاعدہ مالی معاونت کے ساتھ ہنر سکھانے کے پروگرام، اور بچیوں کی تعلیم جاری رکھنے کے لیے معمولی مگر باوقار ترغیبات بھی شامل ہوتی ہیں۔

یہ حقیقت پیشِ نظر رہنی چاہیے کہ سماجی تحفظ کسی قسم کی خیرات نہیں بلکہ ایک تسلیم شدہ انسانی حق ہے۔ بین الاقوامی تنظیم برائے مزدور نے اپنے سماجی تحفظ کے بنیادی تصور میں واضح کیا ہے کہ ہر ریاست اپنے کمزور شہریوں کو کم از کم معاشی تحفظ فراہم کرنے کی پابند ہے۔ اسی طرح عالمی بینک اور اقوام متحدہ بھی اس اصول پر متفق ہیں کہ انتہائی غریب طبقات کو براہِ راست امداد دینا ریاست کی ذمہ داری ہے، نہ کہ کوئی اختیاری احسان۔

عالمی تجربہ اس بحث کو مزید واضح کرتا ہے۔ بھارت، برازیل، بنگلہ دیش اور میکسیکو جیسے ممالک میں سماجی تحفظ کے نقد اور دیگرامداد کے پروگرامز نے نہ صرف غربت میں کمی لانے میں کردار ادا کیا بلکہ مقامی معیشت کو بھی متحرک کیا۔ جب کمزور طبقے کو محدود مگر باقاعدہ رقم ملتی ہے تو وہ اسے خوراک، صحت، تعلیم اور چھوٹے پیمانے کی معاشی سرگرمیوں پر خرچ کرتا ہے، جس سے طلب بڑھتی ہے اور معیشت کا پہیہ نچلی سطح سے حرکت میں آتا ہے۔ یوں یہ رقم خرچ نہیں رہتی بلکہ انسانی سطح پر ایک مؤثر سرمایہ کاری بن جاتی ہے، اور جس کے ملٹفلائیر اثرات ہوتے ہیں۔

ترقی یافتہ دنیا میں یہ تصور اور بھی مضبوط ہے۔ برطانیہ جرمنی، اور ریاست ہائے متحدہ امریکہ میں سماجی تحفظ ،ریاستی نظام کا لازمی حصہ ہے، جہاں بحث اس کے وجود پر نہیں بلکہ اس کی بہتری، شفافیت اور مؤثریت پر ہوتی ہے۔ اس موازنے سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ مسئلہ کبھی بھی سماجی تحفظ کے وجود کا نہیں رہا، بلکہ اس کے نظام کی کمزوری کا رہا ہے۔

یہ خیال بھی درست نہیں کہ ایسی امداد لوگوں کو سستی یا گداگری کی طرف لے جاتی ہے؛ یہ دراصل ایک سطحی سوچ ہے۔ تحقیق اور عالمی شواہد یہ بتاتے ہیں کہ جب بنیادی بقا کا دباؤ کم ہوتا ہے تو افراد زیادہ بہتر انداز میں مواقع تلاش کرتے ہیں اور اپنی زندگی کو سنوارنے کے قابل ہوتے ہیں۔ غربت انسان کی صلاحیت کو ختم نہیں کرتی بلکہ اسے حالات کے شکنجے میں جکڑ دیتی ہے، اور سماجی تحفظ اسی گرفت کو کچھ دیر کے لیے ڈھیلا کر دیتا ہے تاکہ انسان سنبھل سکے۔

پاکستان کے تناظر میں اصل ضرورت اس نظام کو زیادہ مستند، شفاف اور قابلِ اعتماد بنانے کی ہے۔ ایک جامع اور درست ڈیٹا نظام ہو جو حقیقی مستحقین کی نشاندہی کرے، ادائیگی کا مکمل ڈیجیٹل طریقہ ہو تاکہ رقم براہِ راست مستحق تک پہنچے، اور ایسا شفاف نظام ہو جو صاحبِ حیثیت افراد کو اس دائرے میں داخل ہونے سے روکے۔ اس کے ساتھ مؤثر مانیٹرنگ، سخت مالیاتی نظم و ضبط، اور واضح جوابدہی کا نظام ہو تاکہ بدعنوانی، غلط شمولیت اور وسائل کے ضیاع کا راستہ بند کیا جا سکے۔ یہی وہ اصلاحات ہیں جو اس پروگرام کو محض ایک اسکیم سے ایک باوقار قومی نظام میں تبدیل کر سکتی ہیں۔

حقیقت یہ ہے کہ ایک ذمہ دار ریاست محض کارخانے لگانے والی مشین نہیں ہوتی بلکہ ایک ایسا نظام ہوتی ہے جو اپنے کمزور ترین شہری کو بھی سہارا دیتا ہے۔ ترقی اور سماجی تحفظ ایک دوسرے کے مخالف نہیں بلکہ ایک دوسرے کے لیے لازم ہیں۔ اگر ایک طرف روزگار کے مواقع پیدا کیے جائیں اور دوسری طرف کمزور طبقے کو سہارا دیا جائے تو یہی توازن ایک مستحکم اور باوقار معاشرے کی بنیاد بنتا ہے۔

یہی بات ہے کہ حقیقت نہایت واضح ہے۔ یہ وسائل ضائع نہیں ہوتے بلکہ ایک ایسے طبقے کو سہارا دیتے ہیں جس کی بقا ہی معاشرتی استحکام کی بنیاد ہے۔ اگر یہ سہارا چھن جائے تو نہ صرف انسانی المیہ جنم لیتا ہے بلکہ پورا سماجی ڈھانچہ عدم توازن کا شکار ہو جاتا ہے۔ اصل چیلنج ان رقوم کا خاتمہ نہیں بلکہ ان کا شفاف، مؤثر اور جوابدہ اور غیر سیاسی استعمال ہے۔ جب ریاست اس ذمہ داری کو دیانت، بصیرت اور مضبوط نظام کے ساتھ ادا کرتی ہے تو یہی اخراجات بوجھ نہیں رہتے بلکہ ایک مہذب، عادل اور زندہ معاشرے کی پہچان بن جاتے ہیں۔

اپنا تبصرہ لکھیں