نقل،نقاب اور نقشِ کہن/محمد کوکب جمیل ہاشمی

بچے بڑوں کی نقل کرتے ہیں۔ نقل کرنا بری بات ہے۔ کبھی وہ امتحان میں بھی نقل کرتے ہیں، یہ اس سے بھی بری بات ہے۔ بچے نقل کرتے ہوئے پکڑے جائیں تو انہیں استاد سے مار پڑتی ہے، اور گھر والے؟ نہیں! گھر والے مارنا تو کیا، ڈانٹ ڈپٹ بھی نہیں کرتے۔ بڑے لاڈ پیار سے چمکارتے ہوئے کہتے ہیں، “بیٹے! نقل سب کے سامنے تو نہیں کرتے، کیا تم نے یہ محاورہ نہیں سنا کہ ‘نقل کے لیے بھی عقل کی ضرورت ہوتی ہے’۔”

بچے دوسروں کی نقل بھی بہت اتارتے ہیں۔ یہ تو بہت ہی بری بات ہے۔ اس وجہ سے انہیں نقلچی بھی کہا جاتا ہے۔ بچے جب شعور کی عمر کو پہنچتے ہیں تو نقل کے ساتھ عقل کی بات بھی کرتے ہیں۔ وہ ایک دوسرے کی دیکھا دیکھی، یعنی نقل میں، فیشن ضرور کرتے ہیں، چاہے انہیں بھلا لگے یا نہیں۔ وہ کافروں کی نقل میں ان کا لباس پہنتے ہیں تو کوئی فارسی زبان سے سدھ بدھ رکھنے والا اپنی علمیت جھاڑتے ہوئے اعتراض کرنے والوں کو کہتا ہے کہ “نقلِ کفر، کفر نہ باشد”۔ یہاں علمیت کا زعم پارہ پارہ ہو جاتا ہے کیونکہ یہ محاورہ کسی اور موقع پر بولا جاتا ہے۔

ہماری کمر اور گھٹنوں کی تکلیف کی وجہ سے اگرچہ ہماری نقل و حرکت پر پابندی تھی، اس کے باوجود ہم بار بار نقل مکانی کے مرتکب ہوئے ہیں۔ یہ تو آپ کو معلوم ہے کہ نقل مکانی کے مرحلے کے دوران ہمیں خود بھی کئی بار قلی کی طرح نقل و حمل کا آلۂ کار بننا پڑا۔ اس سے زیادہ بار آفس کے کاموں کے دوران ضرورتاً ہم نے بارہا کاغذات کی نقل، یعنی فوٹو کاپیاں، بنا بنا کر فائلوں میں لگائیں۔ البتہ نقل نویسی کا کام کبھی نہیں کیا۔ ہمیں نقالی پسند ہے نہ نقلی چیزیں، مگر مجبوراََ شناختی کارڈ کی نقول جیب میں ضرور رکھتے ہیں، کیونکہ بینک سے رقم نکلوانے کے لیے دینا پڑتی ہیں۔

ایک وقت آیا تھا کہ لوگ مخلوط طرز کے تعلیمی اداروں میں نقاب لگانے والی طالبات کو ہدفِ تنقید بناتے تھے، مگر ہوا یہ کہ مردوں کو بھی طوعاً و کرہاً نقابیں، یعنی ماسک، لگانے پڑ گئے۔ چنانچہ خواتین منہ پر نقاب لگاتی تھیں اور مرد چہرے پر ماسک اور کانوں پر اس کی طنابیں لگایا کرتے تھے۔ حکومت نے ماسک کا نفاذ ایسا کیا کہ اس کے بغیر کسی جگہ بھی داخلہ ممنوع ہو گیا تھا۔

خواتین نقاب لگائیں تو وہ نقاب پوش کہلاتی ہیں اور انہیں دیکھ کر ان کی تکریم کی جاتی ہے، لیکن داڑھی باندھے مرد نقاب پوش سامنے آ جائیں تو یہ سوچ کر خوف سے ہماری گگھی بندھ جاتی ہے کہ بس اب لٹے کہ تب لٹے۔ وہ نقدی چھین کر فرار ہو جاتے ہیں۔ نقاد حضرات تحریری طور پر ان پر بہت تنقید کرتے ہیں، مگر نقاب پوشوں کو دیکھ کر ان کی بھی سٹی گم ہو جاتی ہے۔

ہم تو ٹھہرے طوطی، جس کی آواز کسی نقار خانے میں نہیں سنی جاتی۔ نقاب پوشوں نے کئی بار اسلحہ دکھا کر ہمیں لوٹا ہے۔ ایک ایک واردات ہمارے دل پر نقش ہے۔

ہماری دیرینہ خواہش ہے کہ زندگی میں کم از کم ایک کتاب تو اپنی تحریروں پر مبنی شائع کروا لیں تاکہ اس خوشی میں ہمارا غم غلط ہو جائے، مگر افسوس ہم دل مسوس کر رہ جاتے ہیں کیونکہ ہماری دیرینہ خواہش نقش بر آب ثابت ہوتی ہے۔ غالب نے کہا ہے:

“نقش فریادی ہے کس کی شوخیِ تحریر کا
کاغذی ہے پیرہن ہر پیکرِ تصویر کا”

شاید شوخیِ تحریر سے ہم محروم ہیں، تبھی تو ہم اپنی تخلیقات کو سب تک کاغذی پیرہن دینے سے قاصر رہے ہیں۔ کہیں ہمارے ساتھ وہ معاملہ نہ ہو کہ حسرت ان غنچوں پر ہے جو بن کھلے مرجھا گئے۔

ہم نقیبِ وقت تو ہیں نہیں کہ گلی گلی آواز لگاتے پھریں۔ ضروری تو نہیں کہ “نقوش” میں لکھنے والوں کی ہی کتابیں چھپیں۔ البتہ “پیوستہ رہ شجر سے، امیدِ بہار رکھ” کی مصداق امید رکھتے ہیں کہ ہم ستاروں اور نقرئی لفظوں سے جڑی حسین منقش تحریریں تخلیق کرتے رہیں اور کچھ ماضی کی یادوں کے نقوش اور کچھ حال کا حالِ دل لکھتے رہیں تو شاید اکادمی ادبیات کا گزر بھی ہماری گلی سے ہو جائے۔ بس نقاشِ ازل کی منظوری کی دیر ہے۔

مجرم پیشہ لوگ صرف موبائل اور زر کو ہی نہیں لوٹتے بلکہ گھروں میں نقب زنی بھی کرتے ہیں۔ وہ لمبا ہاتھ مارتے ہیں، مگر جب تک گھر والوں میں سے کسی کے ہاتھ لمبے نہ ہوں، پکڑائی نہیں دیتے۔ اے کاش! دوسروں کا مال ہتھیانے والے نیک لوگوں کے نقشِ قدم پر چل کر اپنی عاقبت سنوارنے کی فکر کریں۔ یہ بات یاد رکھیں کہ جو لوگ اچھی خصوصیات کے مالک اور نیک طبع ہوتے ہیں، ان کے نقشِ پا پر چل کر آپ بھی ان جیسے بن سکتے ہیں۔

جب ہم کوئی نیا مکان بناتے ہیں تو پہلے اس کا نقشہ بنواتے ہیں، اور جب مکان بن جاتا ہے تو اس پر بیل بوٹے اور نقش و نگار بناتے ہیں۔ پہلے زمانے کی جتنی بھی تاریخی عمارتیں بنی ہیں، ان پر خوبصورت نقش و نگار کندہ ہیں۔ دورِ جدید میں بھی آپ کو ٹیکسلا جانے کا اتفاق ہو تو وہاں گلدان، مٹی کے گھڑے، آواز دینے والے واز، گملے اور چائے کے پیالوں پر ایسے دیدہ زیب نقش و نگار بنے ہوتے ہیں جنہیں دیکھ کر خریدار خریدے بغیر نہیں رہتا۔

پہلے زمانے میں لڑکیوں کے رشتے مانگنے والے لڑکی کے اچھے ناک نقش کو دیکھا کرتے تھے، مگر اب قدریں بدل گئی ہیں۔ سہنے مکھڑے کو کم دیکھا جاتا ہے اور لڑکی والوں کے سونے چاندی پر زیادہ نظر ہوتی ہے۔

خوبصورت تجریدی آرٹ کے ماہر مصور جو شاہکار بناتے ہیں اور اردو و عربی میں خطاطی کرتے ہیں، ان میں صادقین اور نقاش کا شمار وقت کے نامور مصوروں میں ہوتا ہے۔ ان کا فن سیکھنے والوں کے لیے بہت بڑا سرمایہ ہے، اور سرمایہ کمانے کا ذریعہ بھی۔ بہت سے مصور تو نقطوں سے نقطے ملا کر شاہکار تخلیق کیا کرتے تھے۔ یارانِ نکتہ دان کے لیے اس میں بہت کچھ ہے سمجھنے کو۔

کچھ لوگ بات کہنے کے ڈھنگ میں اچھی مہارت رکھتے ہیں۔ کوئی واقعہ بیان کر رہے ہوں تو ایسی نقشہ کشی کرتے ہیں کہ سننے والوں کو لگتا ہے جیسے وہ واقعہ اپنی آنکھوں سے دیکھ رہے ہوں۔ ہمارے سیاست دانوں کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ کامیاب سیاست دان ہونے کے لیے نوشتۂ دیوار پڑھنے کی اہلیت کا ہونا ضروری ہے۔ اسے نقشِ ثانی کے طور پر نقش بر دیوار بھی کہا جاتا ہے۔ جو بھی اس صلاحیت سے عاری ہوتا ہے وہ نقصان میں رہتا ہے۔ یہ ایسا نقص ہے جو محبت کے شہروں میں نقصِ امن پیدا کرتا ہے۔

نئے دور کے سیاست دان بار بار یہ شعر دہراتے ہیں:

سلطانیٔ جمہور کا آتا ہے زمانہ
جو نقش کہن تم کو نظر آئے، مٹا دو

اپنا تبصرہ لکھیں