وہ پورے چاند کی ایک رات تھی، جب وہ لاری سے اترا- گاؤں جانے والی پگڈنڈی پر ہو کا عالم تھا۔ دن بھر کی چہل پہل، مسافروں کی آمدورفت، تانگوں اور چھکڑوں کے بوسیدہ پہیوں کی کھٹ کھٹ اب خاموشی میں تحلیل ہو چکی تھی۔ چند آوارہ کتوں کے سوا وہاں کسی ذی روح کا نشان تک نہ تھا۔ مگر یہ صرف آج کی بات نہیں تھی۔ پچھلے کئی برسوں سے وہ شہر سے گاؤں آنے والی آخری لاری ہی پکڑتا اور رات کے اسی پچھلے پہر اس سنسان موڑ پر اتر کر چار میل دور اپنے گاؤں تک پیدل جایا کرتا تھا۔ عجیب بات یہ تھی کہ وہ یہاں آ کر اپنے قدیمی مکان کے دروازے کو دیکھتا، اسے چھوتا اور پھر اندر داخل ہونے کی بجائے واپس شہر چلا جایا کرتا تھا-
کتوں نے ایک بار چونک کر اسے دیکھا، پھر دم دبا کر اندھیرے میں کہیں گم ہو گئے۔ وہ خاموشی سے چل پڑا۔
چاندنی اپنے پورے جوبن پر تھی۔ دودھیا روشنی کھیتوں پر اس طرح بچھی ہوئی تھی جیسے کسی نے زمین پر سفید ریشم بچھا دیا ہو۔ دور کہیں ٹیوب ویل کی مدھم آواز سنائی دے رہی تھی۔ کچے مکان، بیری کے درخت، سوکھی منڈیریں، سب چاندنی میں عجب اجنبیت لیے کھڑے تھے۔ وہ چلتے چلتے گاؤں میں داخل ہوا- گاؤں ہمیشہ کی طرح سو رہا تھا۔ صرف ایک شخص جاگ رہا تھا؛ بوڑھا بڑھئی۔
وہ اپنے مکان سے ملحقہ دکان کے باہر چھوٹے سے برآمدے میں بیٹھا لکڑی کے ٹکڑوں کو جوڑنے میں مصروف تھا۔ اس کے قریب ایک لالٹین رکھی تھی جس کی روشنی چاندنی کے سامنے بہت کمزور معلوم ہوتی تھی۔ بڑھئی کا جھکا ہوا سر، اس کے کانپتے ہاتھ اور لکڑی پر چلتی رندے کی آواز اس ساری خاموشی میں ایک پراسرار موسیقی پیدا کر رہی تھی۔ وہ کچھ دیر خاموش کھڑا اسے دیکھتا رہا۔
گاؤں کے بوڑھے بتایا کرتے تھے کہ یہ شخص کوئی دس گیارہ برس کا لڑکا تھا جب پہلی بار اس گاؤں میں آیا تھا۔ پھر یہیں کا ہو کر رہ گیا۔ نہ کبھی کسی نے اسے کہیں جاتے دیکھا، نہ کسی عزیز کا ذکر کرتے سنا۔ جیسے وہ کسی اور دنیا سے چل کر آیا ہو اور پھر یہیں وقت کے کنارے بیٹھ گیا ہو۔ اسی سوچ میں گم وہ اپنے پرانے مکان تک گیا۔ دروازے پر ہاتھ رکھا تو اسے یوں محسوس ہوا جیسے لکڑی اب بھی پرانی آوازیں اپنے اندر محفوظ کیے بیٹھی ہو۔ ایک لمحے کے لیے اسے وہ رات یاد آئی جب وہ آخری بار یہاں سے گیا تھا؛ صحن میں جلتا زرد بلب، بیمار ماں کی کھانسی، اور اس کا اپنا خاموش فرار۔ اس نے آنکھیں بند کر لیں۔ کچھ یادیں وقت کے ساتھ دھندلی نہیں ہوتیں، صرف آدمی ان کی طرف دیکھنا چھوڑ دیتا ہے۔
کچھ دیر وہ یونہی کھڑا رہا۔ مگر نہ جانے کیوں، آج بھی اس کا دل گھر میں داخل ہونے پر آمادہ نہ ہوا۔ اندر وہی ویران کمرے تھے، دیواروں پر چپکی پرانی نمی، صحن میں سوکھا کنواں، اور ایک ایسی خاموشی جو ہمیشہ اسے اپنے ہی قدموں کی چاپ سے ڈرا دیتی تھی۔ وہ پلٹا اور واپس بڑھئی کے پاس آ بیٹھا۔
رات اب اور بھی گہری ہو گئی تھی۔ خاموشی میں ایک انجانا خوف شامل ہو چکا تھا۔ ایسا لگتا تھا جیسے پورا گاؤں کسی سحر میں گرفتار ہو۔
بڑھئی اسے دیکھ کر ہلکا سا مسکرایا۔ پھر اپنے کام میں لگ گیا۔ کچھ دیر دونوں خاموش رہے۔
وہ چاند کو دیکھتا رہا اور بڑھئی اپنے کام میں مست رہا- چاند دیکھتے ہوئے وہ اکثر سوچتا تھا کہ چاند کی ملکوتی روشنی میں بڑے اسرار ہوتے ہیں۔ یہ بیک وقت کئی کیفیتوں کو جنم دیتی ہے۔ کہیں رومانی جذبہ ابھارتی ہے، کہیں دل میں اداسی اتارتی ہے۔ کہیں انسان کو سوچ کی گہرائیوں میں لے جاتی ہے اور کہیں اسے اپنے ہی وجود سے خوف آنے لگتا ہے۔ اس نے ایک لمبی سانس لی۔ وہ چاند کو دیکھتا رہا۔ اسے ہمیشہ محسوس ہوتا تھا کہ چاندنی آدمی کے اندر چھپی ہوئی چیزوں کو آہستہ آہستہ جگا دیتی ہے۔ کچھ لوگوں کے لیے یہ صرف روشنی ہوتی ہے، مگر کچھ کے لیے ایک ایسی کیفیت، جس میں انسان خود سے بھی چھپ نہیں پاتا۔
“آج پھر دیر سے آئے ہو۔” بڑھئی کی بھاری آواز نے اس کے خیالات توڑ دیے۔ اس نے چونک کر اس کی طرف دیکھا۔ “ہاں۔۔۔ شہر میں کچھ کام تھا۔”
بڑھئی نے سر ہلایا۔
“شہر آدمی کو تھکا دیتا ہے۔” وہ ہلکا سا مسکرایا۔
“اور گاؤں؟”
“گاؤں آدمی کو آہستہ آہستہ ختم کرتا ہے۔” وہ خاموش ہو گیا۔
بڑھئی نے اپنی جیب سے بیڑی نکالی، سلگائی، اور دھواں آسمان کی طرف چھوڑتے ہوئے بولا، “فرق صرف اتنا ہے کہ شہر شور سے مارتا ہے، گاؤں خاموشی سے۔” وہ دیر تک اس جملے کے بارے میں سوچتا رہا۔
چاند اب عین سر پر آ چکا تھا۔ اس کی روشنی میں بڑھئی کا چہرہ اور بھی پراسرار لگنے لگا تھا۔ جھریوں سے بھرا ہوا، مگر عجیب طرح سے پُرسکون۔ جیسے اس نے زندگی کے سارے دکھ دیکھ لیے ہوں اور اب کسی نتیجے پر پہنچ چکا ہو۔”بابا۔۔۔” اس نے آہستہ سے پوچھا، “آپ رات کو سوتے کیوں نہیں؟”
بڑھئی مسکرایا۔ “نیند؟”
اس نے لفظ کو جیسے چکھا ہو۔”نیند انہیں آتی ہے جن کے اندر شور کم ہو۔” پھر بڑھئی نے سامنے پڑی لکڑی پر ہاتھ پھیرا اور کہنے لگا، “انسان دن بھر لوگوں میں رہتا ہے، مگر اصل میں رات کو اپنے ساتھ اکیلا ہوتا ہے۔ تب اسے پتا چلتا ہے کہ اس کے اندر کیا بچا ہے۔”
ہوا کا ایک ٹھنڈا جھونکا آیا۔ قریب کھڑے شیشم کے درخت سے خشک پتے ٹوٹ کر زمین پر بکھر گئے۔
“اور اگر اندر کچھ بھی نہ بچا ہو؟” اس نے دھیرے سے پوچھا۔
بڑھئی نے پہلی بار کام سے ہاتھ روک دیے۔ پھر اس کی طرف دیکھ کر بولا، “تب آدمی راتوں کو گاؤں واپس آنے لگتا ہے۔”
وہ ساکت رہ گیا۔ ایسا لگا جیسے کسی نے اس کے سینے کے اندر چھپی ہوئی کوئی بات اچانک زبان پر لا دی ہو۔
دور کہیں کتے بھونکے۔ پھر خاموشی چھا گئی۔ چاندنی اب پہلے سے زیادہ سرد محسوس ہونے لگی تھی۔ بڑھئی دوبارہ اپنے کام میں لگ گیا۔ لکڑی پر چلتے اوزار کی خشک آواز رات کے بدن پر آہستہ آہستہ خراشیں ڈال رہی تھی۔ وہ خاموش بیٹھا رہا۔
رات اب اپنی آخری سانسوں میں تھی۔ دور مشرق کی طرف آسمان ہلکا سا راکھ رنگ ہونے لگا تھا، مگر چاند ابھی بھی پوری آب و تاب سے کھڑا تھا۔ بڑھئی دوبارہ لکڑی کے ٹکڑے جوڑنے میں مصروف ہو گیا۔ رندے کی آواز اب پہلے سے زیادہ گہری محسوس ہونے لگی تھی، جیسے کوئی پرانی یاد آہستہ آہستہ کٹ رہی ہو۔
کافی دیر بعد بڑھئی نے اس کی طرف دیکھے بغیر پوچھا، “تم ہر بار واپس کیوں آتے ہو؟”
اس سوال کا جواب شاید اس کے پاس کبھی تھا ہی نہیں۔
وہ شہر میں برسوں سے ایک کرائے کے فلیٹ میں رہ رہا تھا جہاں ہر شے عارضی محسوس ہوتی تھی؛ فرنیچر، تعلقات، حتیٰ کہ وہ خود بھی۔ کئی راتیں ایسی گزرتیں جب وہ آدھی نیند سے چونک کر اٹھ بیٹھتا اور چند لمحوں کے لیے بھول جاتا کہ وہ آخر کس جگہ کا آدمی ہے۔
بڑھئی ہلکا سا مسکرایا۔
“انسان ہمیشہ اُن جگہوں پر واپس آتا ہے جہاں اس کی کوئی چیز رہ گئی ہو۔”
وہ پہلی بار غور سے بڑھئی کو دیکھنے لگا۔ جھریوں میں ڈوبا چہرہ، سفید بھنویں، کانپتے ہاتھ۔۔۔ مگر آنکھیں پراسرار اور زندہ تھیں۔ ایسی آنکھیں جو شاید بہت دور تک دیکھ چکی ہوں۔
“اور اگر آدمی کی کوئی چیز کہیں باقی نہ رہے؟”
بڑھئی نے لکڑی پر چلتا ہاتھ روک دیا۔
کچھ لمحے وہ خاموش رہا، پھر دھیرے سے بولا، “تب آدمی خود کسی جگہ کی باقی ماندہ چیز بن جاتا ہے۔”
دور مسجد سے تہجد کی اذان کی آواز ابھری۔ اسی لمحے اسے محسوس ہوا کہ چاندنی مدھم ہونے لگی ہے۔ گاؤں کے کچے مکان، درخت، راستے سب جیسے اپنی پراسراریت کھونے لگے تھے۔
وہ آہستہ سے اٹھا۔ سردی اب ہڈیوں میں اترنے لگی تھی۔ اس نے بڑھئی کی طرف دیکھا۔ بوڑھا خاموشی سے لکڑی کے آخری ٹکڑے کو رندے سے ہموار کر رہا تھا۔
“بابا…” وہ کچھ ہچکچایا، “آپ نے کبھی اس گاؤں سے جانے کا نہیں سوچا؟”
بڑھئی کے ہاتھ چند لمحوں کے لیے رک گئے۔ پھر اس نے ایک گہری سانس لی۔
“ہر آدمی ایک بار جاتا ضرور ہے،” اس نے دھیرے سے کہا، “مگر کچھ لوگ واپس آ کر پھر کبھی نہیں جا پاتے۔”
وہ خاموش رہا۔
بڑھئی نے سامنے پڑی لکڑی کو الٹ پلٹ کر دیکھا، جیسے اس میں کوئی پرانی تحریر پڑھ رہا ہو۔
“میں بھی گیا تھا کبھی۔ بہت دور۔” اس کی آواز اب پہلے سے مدھم تھی۔ “مگر آدمی جہاں اپنی کوئی چیز چھوڑ آئے، وہاں سے مکمل طور پر کبھی نہیں نکلتا۔”
ہوا کا ایک اور جھونکا آیا۔ لالٹین کی لو لرزی۔
وہ پہلی بار بےچینی سے بڑھئی کو دیکھنے لگا۔
“آپ کی کون سی چیز یہاں رہ گئی تھی؟”
بڑھئی نے آہستہ سے سر اٹھایا۔ اس کی آنکھوں میں ایک عجیب تھکن تھی۔ بہت پرانی، بہت گہری۔
“میں خود۔”
وہ ساکت رہ گیا۔ اسی لمحے اذان کی آواز اور بلند ہوئی۔
بڑھئی نے لکڑی کا وہ ٹکڑا اس کی طرف بڑھا دیا جسے وہ پوری رات تراشتا رہا تھا۔ اس نے حیرت سے اسے ہاتھ میں لیا۔ وہ ایک چھوٹا سا نامکمل دروازہ تھا۔
“یہ کیا ہے؟” اس نے دھیرے سے پوچھا۔
بڑھئی ہلکا سا مسکرایا۔
“ہر آدمی اپنی زندگی میں ایک دروازہ بناتا ہے…” وہ بولا، “مسئلہ یہ ہے کہ اکثر لوگ ساری عمر یہ سمجھ ہی نہیں پاتے کہ وہ دروازہ آخر کھلتا کہاں ہے۔”
وہ دیر تک اس لکڑی کے چھوٹے دروازے کو دیکھتا رہا۔ جب اس نے سر اٹھایا تو برآمدہ خالی تھا۔ رندہ ایک طرف پڑا تھا۔ لالٹین بجھ چکی تھی۔ چند لمحے ساکت کھڑا رہنے کے بعد، وہ آہستہ آہستہ اپنے پرانے گھر کی طرف چل پڑا۔
صبح کی مدھم روشنی اب گاؤں پر اتر رہی تھی۔ وہ دروازے کے سامنے رکا، جیب سے لکڑی کا چھوٹا دروازہ نکالا، اور اسے اپنے پرانے، بوسیدہ دروازے کے ساتھ لگا کر دیکھا۔ ایک لمحے کے لیے اسے یوں محسوس ہوا جیسے اندر کہیں بہت دھیرے سے جیسے کوئی کنڈی کھلی ہو۔ اور پھر اس نے برسوں بعد اپنے گھر کا دروازہ مکمل کھول دیا۔


