مصنوعی ذہانت ہماری روزمرہ زندگی کا حصہ بن چکی ہے ۔عام لوگ اورمختلف شعبوں کے ماہرین، اسے کم یازیادہ استعمال کررہے ہیں۔
اس کے ضمن میں جو باتیں ابتدا میں ناقابل ِ یقین اور اعجوبہ لگتی تھیں، وہ اب معمول کی باتیں محسوس ہوتی ہیں۔
اس کی شاعری ، فکشن، موسیقی ، مصوری ، فلم تخلیق کرنے؛ ضخیم کتابوں کے تراجم کرنے اور تنقیدی مقالے،شرحیں، تجزیے، تحقیقی جائزے تصنیف کرنے کی صلاحیت، آدمی کو ورطہ حیرت میں نہیں ڈالتی۔
اس پر بھی اب کوئی حیرانی نہیں ہوتی کہ جنریٹو مصنوعی ذہانت، ایک نئی بائبل ،فلسفے کی ایک نئی ، کسی علم کا ایک نیا نصاب تک لکھ سکتی ہے۔
ہمیں اس بات پر اچنبھا نہیں ہوتا کہ ہم صدیوں پہلے کے مشاہیر کو اپنی تحریریں پڑھتے اوران کی وضاحت کرتے دیکھ سکتے ہیں۔
یہ امر بھی کوئی حیرت نہیں جگاتا کہ وہ آپ کے بارے میں، آپ سے زیادہ جانتی ہے۔ آپ کی یادداشت میں سو سورخنے ہیں،مگر نہ صرف اس کی یادداشت(دراصل ڈیٹا) غیر معمولی ہے، بلکہ اسے منتشر ڈیٹا کو منظم کرنے پر بے مثال دست رس حاصل ہے۔
سوشل میڈیا پر اکثر لوگوں کی تحریریں ،اور غضب یہ کہ ان پر تبصرے ( کمنٹس ) بھی مصنوعی ذہانت کا کرشمہ ہیں۔اگر اس پر حیرت، بلکہ تشویش کا خاتمہ ہوا تو یہ المیہ ہوگا۔
مصنوعی ذہانت کے عجائبات کا معمول بننا، ایک معمولی بات نہیں ہے۔معمول کا درجہ اختیار کرنے کے بعد، چیزیں اپنی انفرادیت وتازگی ہی نہیں، اپنی سچائی بھی کھودیا کرتی ہیں۔
معمول ،چیزوں کے جمال یا قبح کو گہنا دیتا ہے، ان کی دھار کند کردیا کرتا ہے۔ معمول ، ایک ماسک بھی بن جایا کرتا ہے، جس کے نیچے چیزوں کی ہیبت ، خطرناکی ، تضادات ، یہاں تک کہ مضرات چھپ جایا کرتے ہیں۔
معمول کا سب سے کاری وار حیرت واضطراب وتشویش کے بعد، سوال کرنے کی تحریک پر ہوا کرتا ہے۔
معمول خود ایک گہرا نفسیاتی جبر بن جایا کرتا ہے۔نفسیاتی جبر کی ایک خصوصیت یہ ہے کہ وہ دنیا کو دیکھنے کی ہماری نظر کا حصہ بن جایا کرتا ہے۔
یعنی محسوس ہی نہیں ہوتا کہ ہم کسی جبر کا شکار ہیں۔ اگر کبھی جبر کی کوئی نوک چبھتی محسوس کریں بھی تو اسے انسانی فطرت یا تقدیر سمجھنے لگتے ہیں۔
ان کے خلاف کون لڑے ؟ یہ سوچ کر ہم خاموش ہوجایا کرتے ہیں۔ تاہم چوں کہ جبر موجود ہوتا ہے ،اس لیے وہ ہمارے خوابوں یا ہماری تخلیقات میں ظاہر ہوا کرتا ہے۔ ہم ان دونوں کو گہری توجہ کم ہی دیا کرتے ہیں۔
بنا بریں ہمیں اپنے تمام معمولات پر…دنیا کو دیکھنے کی اپنی معمول کی نظر پر،مسلسل تنقیدی نگاہ ڈالتے رہنا چاہیے۔یہی تنقیدی نگاہ، چیزوں کی اصل ، انفرادیت اور سچائی کا تحفظ کیا کرتی ہے،اور چیزوں کے ہمہ قسم کے اثرات کو انسانی اختیار کے دائرے میں لاتی ہے۔
انسانی اختیار خواہ محدود ہی کیوں نہ ہو، اس کے تحت زندگی بسر کرنا، بے اختیاری کی زندگی سے کہیں افضل ہے۔
لکھنے والوں کا ایک طبقہ ، مصنوعی ذہانت سے تحریریں لکھوا کر اپنے نام سے شائع کررہا ہے۔ اس میں نئے ،پرانے ، عورتیں ، مرد، شاعر، فکشن نگار، نقاد، محقق، صحافی ، کالم نگار، دانش ور، سفرنامہ نگار شامل ہیں۔
میں یہ نہیں کہوں گا کہ اس حمام میں سب ننگے ہیں، مگر یہ ضرور عرض کروں گا کہ سوشل میڈیا پر اس وقت ایک طبقہ کسی کسی وقت، وہ بھی اپنی داخلی تحریک پر، اپنی نئی پرانی تحریر شائع کرتا ہے، اور دوسرا طبقہ ، مسلسل ،اور کئی طرح کے موضوعات پر تحریروں کے ڈھیر لگا تا چلا جارہا ہے؛
وہ استفادہ نہیں کرتا، انحصار کرتا ہے۔استفادہ ، اپنی صلاحیت کی نشوونما کی خاطر ہوتا ہے،جب کہ انحصار اپنی صلاحیت کو کسی اور کے آگےہا ر دینے یا صلاحیت کے بغیر، باصلاحیت دکھائی دینے کا نام ہے۔ استفادے کی خصوصیت یہ ہے کہ وہ رفتہ رفتہ کم ہوتاہے، جب کہ انحصار کا وصف یہ ہے کہ وہ مسلسل بڑھتا ہے۔
اسی دوسرے طبقے کے افراد ، مصنوعی ذہانت کے حمام میں ننگے ہیں۔مانا کہ حمام میں سب ہی ننگے ہوتے ہیں، مگر مسئلہ اس وقت پیدا ہوتا ہے کہ جب لوگ اپنا ننگ چھپا نہ سکیں۔ حمام ، حمام نہ رہے، بازار بن جائے۔
ہمیں حیرت اور تشویش، ان لکھنے والوں کے ساتھ، ان کے پڑھنے والوں، پسند کرنے والوں اور ان پر رائے دینے والوں پر بھی ہے۔ تاہم یہ ضرور کہوں گا کہ یہ لکھنے والے چالاک ، جب کہ پڑھنے والے معصوم ہیں۔
معصوم آدمی شک کو براسمجھتے ہیں ۔ انھیں شک بھی نہیں گزرتا کہ وہ جن تحریروں کو پڑھ رہے اور سراہ رہے ہیں، وہ آدمی کے بجائے مشین ،یا کچھ آدمی اور زیادہ تر مشین کی لکھی ہوئی ہیں،اور کئی بار ان تحریروں میں وہ لکیر ، فریب انگیز طریقے سے ،مٹا دی گئی ہوتی ہے ، جو حیاتیاتی ذہن اور مشینی ذہن کی تحریروں میں فرق کیا کرتی ہے ۔
یہ الگ بات کہ ہر مٹائی گئی لکیر ، دریدا کی اصطلاح میں،کچھ مدھم نشانات یعنی traces چھوڑ دجایا کرتی ہے۔ کچھ لوگوں کی نظر میں وہ مدھم نشانات، روشن ہوجاتے ہیں، اور چھپائی گئی چیزیں ، دکھائی ہی نہیں دیتیں، بولتی بھی محسوس ہوتی ہیں۔
ان لکھنے والوں کی چالاکی کا ایک پہلو یہ ہے کہ اگر ان سے کوئی اختلاف کرتا ہے تو اس اختلاف کا جواب بھی ، مصنوعی ذہانت سے تیار کرواتے ہیں۔ آدمی سوچتا ہے کہ وہ کسے وکیل کرے اور کس سے منصفی چاہیے!
یہ قصہ آگے بھی چلتا ہے۔ ان گناہ گار آنکھوں نے کچھ ایسی تحریریں بھی پڑھی ہیں، جن میں مصنوعی ذہانت کے خلاف مقدمہ ، مصنوعی ذہانت ہی سے تیار کروایا گیا ہے۔ مشینی ذہانت کی ملامت، مشینی ذہانت ہی سے کروائی گئی ہے۔
یہ قصہ یہیں تک رہتا تو صرف افسوس ہوتا ۔قصہ مزید آگے چلتا ہے۔ اب افسوس کے ساتھ تشویش،ندامت ،اور اندوہ بھی ہوتا ہے۔ انھی تحریروں میں مشینی ذہانت کی ملامت کے فوراً بعد، آدمی کی ذہانت و تخلیقی شرف کو پیش کیا گیا ہے،اور انسانی شرف کا یہ قصہ ، مشین ہی سے لکھوایا گیا ہے۔
ذرا رک کر اس صورتِ حال کو پوری طرح محسوس کیجیے۔
اگر آپ واقعی محسوس کرتے ہیں کہ آپ کے پاس اعلیٰ ترین شعور ، بے مثل ذہانت، غیر معمولی تخیل ،موجودکی حدوں سے باہر جانے کی آرزو، ناموجود کو موجود بنانے کا عزم ، ایک عام لمحے میں ابدیت کا تجربہ کرنے کا وصف ہے ،تمام مخلوقات میں سب سے پیچیدہ زبان، آپ کے پاس ہے ، جس کی بنیاد پر لارج لینگوئج ماڈل یعنی مصنوعی ذہانت بھی ایجاد کرلی گئی ہے، اور ان کے علاوہ بھی اوصاف ہیں ، جن کی بنا پر آپ فخر اور شرف بھی محسوس کرتے ہیں …..مگر اس سب کا قصہ خود نہیں لکھ سکتے۔
آدمی کو عاجزی پسند نہ ہو،کوئی قباحت نہیں۔ آدمی کوئی کارنامہ سرانجام نہ دے سکے، کوئی حرج نہیں۔ قباحت اور حرج اس میں ہے کہ آپ وہ دکھائی دیں جو آپ نہیں ہیں۔ آدمی کے بس میں کچھ اور ہو نہ ہو، دیانت دار ہونا تو آدمی کے اختیار میں ہے۔
دیانت داری کے بھی درجے ہیں۔ سب سے کم تر درجہ یہ ہے کہ آدمی جو کچھ ہے ، جیسا ہے، اسے اپنے دل میں تسلیم کرتا ہو ۔ا س سے اگلا درجہ یہ ہے کہ دنیا کے سامنے ، اپنی اصل کے ساتھ آئے،اور شرمندگی محسوس نہ کرے، اور دوسروں کی طرف سے اگر تضحیک بھی ملے تو اسے وقار سے برداشت کرے۔ تیسرا درجہ یہ ہے کہ سب نقاب اتار دے،اور دنیا کی پسند ناپسند ، تحسین وملامت کے خوف سے آزاد ہوجائے۔
اس سے کوئی قیامت نہیں آتی کہ آدمی ، اپنے ہی بارے میں کم جانتا ہو۔ قیامت تب آتی ہے، جب آدمی اسی بات کو سرے سے نہ جانتا ہو، مگر دعوے، سب کچھ جاننے کے کرتا ہو،اور ’’دوسروں ‘‘ سے اپنے قصیدے لکھواتا ہو۔
اگر مصنوعی ذہانت واقعی سوچتی ہے تو اسے،ایسے لکھنے والوں کو ٹوکنا بھی آ ناچاہیے، یا کم از کم ہنسنا تو ضرور سیکھ لینا چاہیے، ان لکھنے والوں کی بابت۔کیسا ہو کہ اگر یہ سارے چیٹ بوٹ، اپنی آپ بیتی لکھیں ،اور انسانوں سے متعلق سب سچ بیان کریں۔
ان سے میں سب سے بڑا سچ شاید یہ ہو کہ لوگوں نے لکھنا ہی نہیں، کتابیں ،مضامین پڑھنا ، انھیں سمجھنا،اور سوچنے کا عمل بھی آؤٹ سورس کردیا تھا۔
اس سے پہلے بھی انسان اپنابوجھ ،اور اپنی ذمہ داریاں دوسروں کے سپرد کرتے آئے تھے، اے آئی کے عہد میں،لوگوں نے اپنے تخلیقی وتصنیفی وجود ہی کی پوری ذمہ داری ، اے آئی کے سپرد کردی ،اور خود کسی اور کی زندگی بسر کرنے لگے، یہ سمجھے بغیر کہ کسی دوسرے کی زندگی بسر کی ہی نہیں جاسکتی، اس کی محض اداکاری کی جاسکتی ہے۔
اور یہ جانے بغیر کہ دنیا میں اچھے سے اچھے اداکا ر کو بھی خود اپنے وجود کی تاریکی وتنہائی کا سامنا رہتا ہے۔
یہاں بھی آدمی کے پاس دیانت دار ہونے کا ایک موقع ہوتا ہے کہ وہ اپنے وجود کی تاریکی وتنہائی کی ساری کہانی ،سارا جھوٹ سچ، سارا کرب، بے بسی ، اضطراب ، خود سے بے زاری وگریز ، خود لکھے ، اسے اے آئی سے نہ لکھوائے۔
میں سوچ رہا ہوں کہ ان لکھنےو الوں کے لیے ایک مناسب سا نام تجویز کیا جاناچاہیے۔ ہائبر ڈ رائٹرز۔ مصنوعی ذہانت کی ٹکسال میں ڈھلے مصنفین۔ ٹکسالی مصنفین۔
(جاری ہے)


