خیر، اس سب پر کچھ کڑے سوالات قائم کرنے کی ضرورت ہے۔
سب سے پہلے ،اخلاقی سوال سامنے آتا ہے۔ یہ کہ آپ’’ کسی اور ‘‘کی تحریر کو اپنے نام سے کیسے پیش کرسکتے ہیں؟
یہ کہنا کہ جنریٹو مصنوعی ذہانت خود اپنے طور پرکچھ لکھتی ہے ،نہ اسے لکھنے کی تحریک ہوتی ہے، وہ آپ کی ہدایات ، تجاویز اور مشوروں کے مطابق لکھتی ہے، اس لیے ا س کا حقِ تصنیف آپ کے پاس ہے، حقیقی معنوں میں دلیل نہیں، ایک کمزوردفاع ہے اور کمزور کا دفاع ہے۔
کمزور دفاع میں سامنے آنے، اور کڑی سچائی کا سامنا کرنے سے گریز پایا جاتا ہے۔اس ضمن میں کئی چیزوں کو چھپایا جاتا ہے،اور خود کسی آڑ میں چھپنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ یہاں بھی ’پرامپٹ‘ کو آڑ بنایا گیا ہے،اور اس کے پیچھے،اپنے نہ لکھ سکنے کی معذوری یا اعتما دکی کمی کو چھپایا جاتا ہے۔
سادہ سی بات ہے جو شخص لکھنے کی اہلیت رکھتا ہے ، اسے کسی اور شخص یا مشین پر کلی انحصار کی کیا ضرورت ہے؟ تاہم یہ کہنے کی ضرورت ہے کہ خالی لکھنے کی اہلیت کافی نہیں، اس اہلیت پر اعتماد بھی ضروری ہے،
اور یہ اعتماد کچھ لوگوں کے یہاں، مستند ادیبوں کی دادو تحسین سے آیا کرتا ہے،یعنی دوسروں کی سند ہی انھیں اعتماد بخشا کرتی ہے،جب کہ کچھ مصنفین کے یہاں خود لکھنے کے نتیجے میں، اعتماد پیدا ہوا کرتا ہے، خاص طور پر ،جب وہ اپنی ہر تحریر کو ایک گہرا تجربہ بنتے ؛ دل میں انوکھی مسرت، وسعت ، گہرائی اور ٹھہراؤ محسوس کرتے ہیں،اور دنیااور خود کو دیکھنے کی نظر میں،ایک ارفع قسم کی تبدیلی رونما ہوتے محسوس کرتے ہیں ۔
لہٰذا یہ نتیجہ غلط نہیں کہ جو لوگ مصنوعی ذہانت پر مکمل انحصار کرتے ہیں، ان کے یہاں اوّل لکھنے کی اہلیت ہی موجود نہیں، دوم اگر یہ اہلیت موجود ہے تو وہ اعتما دکی کمی کا شکار ہیں۔
واضح رہے کہ ہر آڑ ہٹ جایا کرتی ہے،اور ہر نقاب اتر جایا کرتا ہے۔ ’پرامپٹ‘ کی آڑ اسی لمحے ہٹ جاتی ہے، جب آپ لکھنے اور شائع کرنے کو ایک ذمہ داری سمجھتے ہیں۔
پیشہ وارنہ تحریروں ، جیسے ای میل ، اشتہار، نوٹس وغیرہ کو بھی اس فہرست سے خارج نہیں کیا جاسکتا ہے کہ وہاں بھی ہر لفظ کسی نہ کسی کو ،کسی نہ کسی انداز میں مخاطب کررہا ہوتا ہے ، مگر وہ سب تحریریں ،جن کا موضوع آدمی ، سماج ،ماحول،سیاست،مذہب،روایت، تہذیب،علوم ، ادبیات، فنون، دنیا ، خدا، کائنات، اور ان سب کے باہمی رشتے اور ان سے وابستہ مسائل وسوالات ہیں، ایک لازمی اور گہری ذمہ داری رکھتی ہیں۔
لکھنے والا، اپنے اپنے ایک لفظ کے انتخاب، ترتیب ِ الفاظ، لہجے، دلائل ، تصورات ، نتائج سب کا ذمہ دار ہو تا ہے۔ سادہ سی بات ہے کہ جو بات، کام، عمل ، کسی بھی ’دوسرے ‘ پر ،کسی بھی نوع کا اثر مرتب کرتے ہیں ،یا اثر مرتب کرنے کا امکان رکھتے ہیں ، ان کی ذمہ داری آپ پر عائد ہوتی ہے۔
یہ ذمہ داری کوئی باہر سے عائد نہیں کرتا؛ خود لکھنا ، ذمہ دارانہ فعل ہے۔ یہ ذمہ داری ، مصنف کے صرف اپنے وجود کے سلسلے میں نہیں ،ان سب کے ضمن میں ہے، جومصنف کے آس پاس ، اس سے دورہیں، اس کی یادوں اور خیالوں میں ہیں، اور جن تک اس کی تحریروں کے پہنچنے کا امکان ہے۔
کامیو نے تو مصنف کی ذمہ داری میں، پوری تہذیب کو بچانے کا مقصد شامل کیا تھا۔ چلیں ہر مصنف ، تہذیب جیسی عظیم چیز کا پورا علم رکھتا ہے ، نہ اس کو لاحق خطرات اور بچانے کا کوئی تخیل ،مگر وہ خود کو مستند انداز میں لکھنے کے قابل تو ہوسکتا ہے۔
حیرت انگیز بات یہ ہے کہ محض اپنے تجربات کو پوری دیانت داری ، بے خوفی اور تخلیقی انداز میں لکھنے والے، باقیوں کے لیے بھی لکھ رہے ہوتے ہیں۔آدمی کی تنہائی کی زبان، سب سے زیادہ دستانہ اور محرمِ راز والی زبان ہوا کرتی ہے۔
یہ دلیل دی جاسکتی ہے کہ ’پرامپٹ‘ ذمہ دارانہ ہوسکتا ہے، مگر یہ بھی کمزور دفاع ہے،اور ایک آڑ ہے۔ دیکھنے والی بات یہ ہے کہ ’پرامپٹ‘ پس منظر میں موجود ہوتا ہے،جس سے قارئین واقف نہیں ہوتے، اور ہمارے سامنے، ایک مکمل مشینی تحریر موجود ہوتی ہے۔
’پرامپٹ ‘ دینے والے یہ بھی کہہ سکتے ہیں کہ ’مکمل مشینی یا کسی حدتک ایڈٹ کی گئی تحریر‘ کی ذمہ داری، وہ قبول کرتے ہیں۔ اگر وہ واقعی ایسا کہتے ہیں ،یعنی کسی اور کی تحریر، کسی اور کے الفاظ، ان میں موجود دلائل کی ذمہ داری کا بوجھ وہ اٹھاتے ہیں تو انھیں یہ تسلیم کرنا چاہیے کہ وہ واقعی ’دوسروں کی زندگی بسرکرنے کی اداکاری کرنے اور خود کو ہار دینے ‘ میں حرج نہیں سمجھتے۔
حقیقت میں وہ پوری طرح واقف ہی نہیں ہوتے کہ وہ کس کس بات، کس کس دلیل ، کس کس نکتے کی ذمہ داری اٹھا رہے ہیں۔
کیا وہ ذہنی طور پر کسی ایسے فعل کی سزا یا باز پرس کے لیے آمادہ ہوا کرتے ہیں، جو حقیقت میں انھوں نے کیا ہی نہیں ہوتا؟ کیا وہ کافکا کے ‘دی ٹرائل ‘ کے’’جوزف کے‘‘ بننے میں کوئی قباحت نہیں دیکھتے،جسے ایک ایسے جرم میں ماخوذ کیا جاتا ہے، جو اس نے کیا ہی نہیں؟
حقیقت یہ ہے کہ جس طرح کسی اور کی زندگی بسر نہیں کی جاسکتی ،اسی طرح کسی اورکے کسی فعل کی ذمہ داری بھی نہیں اٹھائی جاسکتی۔ جس لمحے کوئی شخص ،کسی اور کی ذمہ داری اٹھاتا ہے، وہ دراصل اپنی ایک ذمہ داری سے پہلو تہی کررہا ہوتا ہے۔ یعنی ایک آزادی کی زندگی سے ۔ جو اپنی آزادی سے بھاگتے ہیں،وہی ذمہ داری سے بھی گریز کیا کرتے ہیں۔
ایک دلیل یہ دی جاتی ہے کہ جس طرح ٹیکنالوجی کی دوسری صورتیں ہماری معاون ہیں، مصنوعی ذہانت بھی ہماری اعانت کررہی ہے۔
یہ بھی کہا جاتا ہے کہ ہم نے ماضی میں اکثر نئی ٹیکنالوجی کی ملامت کی ، اسے کافرانہ سمجھا،اس سے استفادے اور اسے اختیار کرنے میں تاریخی تاخیر کی اور اپنا نقصان کیا۔ دوسری دلیل وزنی ہے،اس لیے توجہ کی مستحق، پہلے ہے۔
بجا کہ ہمیں نہ صرف نئی ایجادات قبول کرنی چاہییں ،بلکہ خود بھی نئی ایجادات کرنی چاہییں اور اس کے لیے لازم ہے کہ ہم اس سائنسی شعور کے حامل اور اس کی مسلسل نشوونما میں حصہ دار ہوں، جو نئی نئی ٹیکنالوجی کی ایجاد کو ممکن بناتا ہے۔
ہمیں اس کڑوی سچائی کو بھی تسلیم کرنا چاہیے کہ ہم صدیوں سے عالمی( بلکہ مغربی کہنا چاہیے ) ایجادات کے صارف ہیں، موجد نہیں۔یہی نہیں، ہمیں صارف کی نفسیات اور موجد کی نفسیات میں فرق کا علم بھی ہوناچاہیے۔ صارف کی نفسیات میں عمومی طور پر دوجذبی رجحان (ambivalence) موجود ہوا کرتا ہے، وہ جس چیز کو اپنے لیے ، لازم سمجھتا ہےیا اسے پسند کرتا ہے، اسی کے لیے ناپسندیدگی اور کئی بار نفرت کے جذبات بھی پیدا کر لیا کرتا ہے۔
یوں سمجھیے، اس کے تمام لذید کھانوں میں ایک کنکر موجود ہوتا ہے،جو اس کے دانتوں میں کچکچاتا ہے تو کھانے کا مزہ ، غارت ہوجایا کرتا ہے۔ جب کہ موجد اعتماد، تفاخر کا حامل ہوتا ہے،اور کئی بار دیوتائی تکبر کا بھی!
اس میں بس ایک بات کا اضافہ کرنے کی ضرورت ہے کہ ہر نئی ایجاد کو قبول کرنے سے پہلے ،یا اس کے پہلو بہ پہلو، اس پر مسلسل ڈسکورس بھی قائم کیا جانا چاہیے۔ یہ تصور کہ ہر نئی ایجاد،لازمی انسانی ضرورت ہی کے نتیجے میں سامنے آتی ہے اور انسانی تہذیبی ارتقا کی ایک نئی منزل ہے، بہ ظاہر دل فریب ہے،مگر اس میں فریب انگیزی کے کئی پہلو ہیں۔
ہم اس حقیقت کو کیسے فراموش کرسکتے ہیں کہ سرمایہ داریت وصارفیت،ٹیکنالوجی کے ضمن میں، اس طرح کے کئی التباسی بیانیے وضع کیا کرتی ہے۔ یہ کوئی راز نہیں کہ سرمایہ داریت صارفیت ، چیزیں ہی نہیں، ضرورتیں بھی ایجاد کر لیا کرتی ہے۔
ہمیں سرمایہ دار کی ہوس ِ منفعت اور عمومی انسانی بھلائی وتہذیبی ترقی میں فرق کی لکیر کھینچنی چاہیے۔
نیز ہر ایجاد کی اس قیمت کا تخمینہ بھی لگاتے رہنا چاہیے جو فطرت وماحول چکاتے ہیں۔ یہ سارا ڈسکورس، نئی ٹیکنالوجی کو ردّ نہیں کرتا، اسے اس کے اصل مقام اور کردار کے قریب رکھتا ہے۔
جہا ں تک پہلی دلیل کا تعلق ہے، وہ ایک بنیادی حقیقت پر پردہ ڈالتی ہے۔ یہ کہ مصنوعی ذہانت، ٹیکنالوجی کی باقی ،عام صورتوں کی مانند ہے۔ حالاں کہ ایسا نہیں ہے۔
یہ پہلی مشین ہے جو تخلیق و تصنیف اور فیصلے کرسکتی ہے؛ جس کے پاس ’ زبان سے بنا ذہن ‘ ہے ، جسے اونگھ آتی ہے نہ نیند ،اور جو بے تکان کا م کرسکتا ہے، اور جس کی گرفت میں واقعی زمین و آسمان کے اس سارے یا بیش تر علم کی کلیدیں ہیں،جنھیں انسانوں نے اب تک پیدا کیا اور ڈیجٹیل آرکائیو میں محفوظ کیا ہے۔
اس پر خوف طاری ہوتا ہے نہ جنون، نہ اسے خوابوں میں عفریت ستاتے ہیں ، نہ اسے اپنے بے مکاں و بے شناخت ہونے کا کوئی اندیشہ ہوا کرتا ہے۔ چناں چہ ، یہ ایک ہی طرح سے ، اپنے پیٹرن ، اپنی گرامر کے مطابق، برق رفتاری سے ، کام سر انجام دے سکتا ہے۔
یہ یکسانیت سے اکتاتا بھی نہیں ہے۔یہ حقیقی معنوں میں مشین ہی کی مانند کام کرتا ہے۔ ہم انسانی تاریخ میں پہلی بار ایک ایسی مشین دیکھ اوربرت رہے ہیں جو سن، بول ، لکھ، پڑھ ،گاسکتی ہے، تصویریں، فلمیں بناسکتی ہے۔
وہ ہمیں مسلسل باور کرارہی ہے کہ انسان اب تک جن باتوں پر فخر کرتا آیا ہے،یعنی تخلیق و تصنیف ، زبان وبیان ، فن وعلم وغیرہ پر،وہ سب مشینی طور پر ممکن ہے، اور مشینی طور پر ممکن ہونے کا مطلب، ان تھک انداز میں، لامتناہی طور پر ، بر ق رفتاری سے کوئی کام انجام دینا ہے۔
مصنوعی ذہانت کا ہمیں یہ بات باور کرانا، ایک عام سی بات نہیں ہے۔ ہم تخلیق و تصنیف کو دیوتاؤں یا دیوتا نما انسانوں کی خصوصیت تصور کرتے آئے ہیں۔ اس صلاحیت کو میوز سے جوڑنا، مضامینِ شعر کا غیب سے آنا تصور کرنا، شاعری کو جزوِ پیغمبری سمجھنا، دراصل تخلیق کو عام انسانی سرگر میوں سے جدا کرنا،اور اسے اس کے شایان ِ شان مرتبہ دینے کی خاطر تھا۔
ایک خاکی وجود میں آسمانی نور کی موجودگی پر یقین کا اظہار تھا۔ ایک ایسا نور جو خاکی انسانوں کے پورے وجود کو شیرینی وحلاوت سے بھر دینے کا ملکہ رکھتا ہے۔
ہمارے سامنے ایک نہایت کڑا سوال یہ ہے کہ کیا ہم نے وہ دیوتا ایجاد کرڈالا ہے جو علم و فن ایجاد کرتا تھا ،یا وہ سرے سے دیوتا تھا ہی نہیں ، یا پھر جسے ہم تخلیق ِ فن و علم کہتے ہیں، وہ پہلے دن ہی سے ایک میکانکی ومشینی عمل تھا یا اس کا کوئی ایک حصہ میکانکی تھا؟
یہ درست ہے کہ انسانوں ہی کی بنائی گئی مشین، انسانوں ہی کے سامنے، اس کی تاریخ کا ایک بڑا سوال رکھتی ہے۔ اس سوال کا جواب، اسی سوال میں ( سوال کا جواب بھی سوال میں ملا مجھے: منیر نیازی) ، اس مشین کی کارکردگی میں، اور کچھ تصورات ِ فن میں پہلے ہی سے موجود ہے۔
یہ کہ فن اور علم کی تخلیق کا ایک حصہ ہمیشہ سے ’میکانکی‘ رہا ہے۔ لفظ ٹیکنالوجی کی اصل یونانی لفظ ٹیکنی (Tekhne) ہے،جس کا مطلب، کرافٹ ،مہارت ہے۔ا س کا مادہ teks-ہے،جس کا معنی بنُنا اور بنانا ہے۔ادب میں کثرت سے استعمال ہونے والا لفظ تکینک ، اسی ٹیکنی سے نکلا ہے۔
اسی طرح لفظ پوئٹری قدیم یونانی لفظ poieinسے نکلا ہے،جس کا مفہوم ’بنانا‘ ہے۔ پرانی فرانسیسی میں تو پوئٹری (poetrie) کا مطلب ہی ، شاعر کا کرافٹ تھا۔عربی لفظ شعر کا بنیادی مفہوم بھی شعور ہے، یعنی ارادہ و قصد سے متعلق ہے۔
دریدا نے فرانسیسی لفظ écritureکو نشانانات اورعلامتوں کے ایک جامع تحریری نظام کے مفہوم میں پیش کیا ہے،جو بولنے سے الگ ہے،اور اسی طرح میثل فوکو نے اپنے مشہور مضمون : ’’مصنف کیا ہے؟ ‘‘میں مصنف کو ایک فنکشن کہا ہے ۔بین المتونیت کا مئوقف بھی اسی ضمن میں اہم ہے۔(ان تینوں پر بحث آخر میں )
اس سب کو آتش کا یہ شعر وضاحت سے پیش کرتا ہے:
بندش ِالفاظ جڑنے سے نگوں کے کم نہی
شاعری بھی کام ہے آتش مرصع ساز کا
گویا شاعری کاایک حصہ ا گردیوتائی، پیغمبرانہ ، الہامی ، وجدانی ، لاشعوری ،اظہارِ ذات سے متعلق ہے تو ایک حصہ مرصع سازی ہے، سنار کے کام کی طرح ہے۔
سنار کے کام میں بھی تخلیقیت ہے، لیکن وہ بے ساختہ ورواں قسم کی نہیں، ساختہ و تکنیکی ہے۔ مصنوعی ذہانت، اسی دوسرے پہلو سے متعلق ہے۔
کیا ہم تخلیقی عمل کے محض ایک پہلو کو ، مکمل تخلیقی عمل کے متبادل کے طور پر لے سکتے ہیں؟ کیا ہم تخلیق کاسارا کام ، اپنے اندر بستے چھوٹے موٹے دیوتاؤں سے لے کر ،بازار کے سنار کے سپرد کرسکتے ہیں؟
مصنوعی ذہانت، ڈیجٹل بازار کا نیا سنا ر ہی ہے!
(جاری ہے )


