عشق الجبرا ۔ ۔۔۔۔
تمہیں کیا پتہ
اے عشق لاپتہ!
بڑے پتے کی یہ بات ہے۔
جس شوق سے چلا تھا یہ ؛
اسی شوق میں ہے
آج بھی یہ سلسلہ۔
سفر میں ہے تو سہی مگر ؛
کچھ بدحواس سا اور کچھ لاپتہ۔
اسے ڈھونڈنے کی سعی تو کر!
جس کے غم نے سب کچھ مٹا دیا۔
اس ایک آواز کا وہ والہانہ پن ،
وہ خوف رسوائی سےحال دل چھپاتی لرزاں سی کیفیت۔
وہ جاں فزا، جھجھکتی ، کھنکتی
مختصر سی معصوم گفتگو؛
ایک پیغام آفریں انعام تھا ۔
کھوئی سماعتیں لوٹا گیا۔
جلترنگ ، ترنگ، امنگ
جو متاع جاں تھی لاپتہ۔
کسی دوسرے جہاں کی یہ عنایت نہیں
جو رونما ہوا واقعہ
یہیں پر ہوا رونما ۔
یہ اسی حیات کی تقویم ہے؛
اسی میں ڈھونڈ
وہ فرصت وقت لاپتہ۔
سعی لاحاصل
ہے مگر اسے بازیافت کر ۔
زندگی ہے تو یہ اہتمام ہے؛
وگرنہ کیا پتہ کہ
کیا ہے لاپتہ۔
۔
صادقہ نصیر رانا


