دو ،تین اور چار حروف بھیجنے والے محاورے/اختر شہاب

پچھلے دنوں میں ایک مضمون کے سلسلے گوگل پرحروف کے بارے میں تلاش کر رہا تھا کہ نہ جانے گوگل کو کیا سمجھ آئی کہ اس نے، اس تلاش کے دوران دوسری چیزوں کے علاوہ ایک محاورہ بھی میرے سامنے پیش کر دیا۔۔۔
وہ محاورہ تھا۔ “چار حرف بھیجنا”۔۔

یہ محاورہ دیکھ کرہی ہمارے چار طبق روشن ہو گئے ( محاورے کے کے لحاظ سے چودہ کے بجائے چار ہی روشن ہوئے)۔ اب اسے ہماری نااہلی سمجھ لیں یا کم علمی کہہ لیں کہ ہمارے علم اور ہمارے دماغ میں تو صرف ایک ہی محاورہ موجود تھا اور وہ محاورہ تھا “کسی پر تین حرف بھیجنا” ۔۔ اب ہم اس شش و پنج میں پڑ گئے کہ یہ چار حرف بھیجنا سے کیا مراد ہے؟ کیا یہ کوئی نئی اصطلاح ہے یا کوئی نئی ترکیب ہے یا پھر کوئی نیا محاورہ ایجاد ہوا ہے۔۔
سو جب ہم نے اس لنک کو کھولا تو ہمیں علم ہوا کہ یہ بھی ایک محاورہ ہے اور چار حروف بھیجنا سے مراد لعنت بھیجنا ہے ۔ ہم نے اس محاورہ گھڑنے والوں کی عقل کا ماتم کرتے ہوئے جب اس کی مزید تشریح پڑھی تو پتہ لگا کہ لفظ لعنت میں چونکہ چار حروف ہوتے ہیں لہذا بجائے یہ کہنے کے کہ میں آپ پر لعنت بھیج رہا ہوں یہ کہا جاسکتا ہے کہ میں آپ پر چار حروف بھیج رہا ہوں۔۔ بہت خوب ۔۔! میرا خیال نہیں کہ کوئی عقل کا اندھا اس محاورے میں چار حروف کا مطلب با آسانی سمجھ سکتا ہے کہ, یہ کون کون سے حروف ہو سکتے ہیں۔

اہم بات یہ ہے کہ یہ محاورہ نہ صرف فرنگ آصفیہ بلکہ فیروز الغات وغیرہ جیسی مستند لغات میں بھی موجود ہے ورنہ ہم تو اسے محض سوشل میڈیا کی کارستانیاں سمجھتے۔ اس محاورے کے جواز پر جب مزید تحقیق کی گئی تو علم ہوا ایک ویب سائٹ نے اس محاورے کیں باقاعدہ تشریح بھی کی ہے۔

ان کے مطابق۔۔ !!
چار حروف سےمراد, لفظ “لعنت” ل + ع+ ن+ ت = (4) ہے. چونکہ لکھنے والا اپنے قلم سے یہ لفظ ادا کرتے ہوئے گھبراتا ہے۔ مہذب لوگ لفظ لعنت کو اپنی زبان و قلم سے ادا کرتے ہوئے گھبراتے اور ڈرتے ہیں کہ کہیں اس کے استعمال سے وہ اس وعید کی گرفت میں نہ آ جائیں کہ جو پیارے رسول نے فرمائی تھی۔
رسول رحمت نے سختی سے لعنت بھیجنے سے منع فرمایا ہے اور بتایا ہے کہ جو کسی کو لعنت کرتا ہے ، اگر وہ اس کا مستحق نہ ہو تو کرنے والے پر ہی لعنت آ پڑتی ہے اور لعنت کا مطلب ہوتا ہے، مولائے رحمان و رحیم کی رحمت سے خالی اور دور ہو جانا۔
احادیث مبارکہ میں اس حوالے سے کئی احکامات سامنے آتےہین ۔ ترمذی شریف میں ‘لعنت’ کے بارے میں ایک باب ہے۔ اس میں عبداللہ بن مسعود، نبوی ارشاد سے آگاہ کرتے ہیں کہ آپ کا واضح فرمان ہے، “مومن طعنہ دینے والا لعنت کرنے والا، بے حیا اور بد زبان نہیں ہوتا۔”
قرآنی الفاظ “ويل لكل همزة لمزة” میں بھی لعن طعن کرنے اور عيب جوئی میں مصروف رہنے والوں کے لئے ہلاکت اور “ویل”جیسی بھیانک جہنم کا اعلان ہے – ابن کثیر نے اپنی تفسیر میں لکھا ہے، “ویل” وہ خطرناک ترین گڑھا ہے کہ جس سے خود جہنم دن میں کئی بار پناہ مانگتی ہے۔ چار حرف بھیجنا کے علاوہ اس محاورے کو تین حرف بھیجنا معنى۔۔ لعن طعن کرنا میں بھی استعمال کرتے ہیں۔
اب کوئی ان عقلمندوں سے پوچھے کہ اپ چاہے لفظ لعنت نہ لکھیں اور اس کے بجائے چار حروف بھیجنا ہی لکھیں لیکن اس کا مفہوم تو وہی ہے جو اپ کے ذہن میں ہے یعنی لعنت بھیجنا۔ یوں یہ تو کان گھما کر پکڑنے والی بات ہوئی اور اس لحاظ سے اپ تو پھر پکے مومن نہ ہوئے۔

اپ لوگ سوچ رہے ہوں گے کہ اس بارے میں صرف چار حروف اور تین حروف بھیجنا ہی محاورہ ہے۔۔ نہیں جناب! میں نے جب لغت سرچ کی تو پتہ لگا کہ دو حرف بھیجنا بھی ایک محاورہ ہے اور انہی معنوں میں اتا ہے جن معنوں میں تین حروف یا چار حروف بھیجنا آتے ہیں اور اس کی تشریح کچھ اس انداز سے کی گئی ہے ۔۔۔
“قدیم دور میں جب عربی یا فارسی میں لعنت بھیجی جاتی تھی، تو اس کے لیے “لعن” کا لفظ استعمال ہوتا تھا جس میں دو ہی حروف (ل اور ع) ہوتے ہیں۔ (‘ن’ کیوں حرف شمار نہیں ہوتا ۔ اس کی کوئی توجیہ موجود نہیں ہے۔) اسی مناسبت سے بول چال میں “لعنت بھیجنا” کو “دو حرف بھیجنا” کہا جانے لگا۔

البتہ پانچ حروف بھیجنا پر کوئی محاورہ نہ ملا حالانکہ مجھے یقین تھا کہ جیسے بلا جواز ”ن” ہٹا کے دو حروف بھیجنے کا محاورہ بنایا گیا ہے اور لغت میں دو ، تین اور چار حروف بھیجنا کے محاورے موجود ہیں تو عین ممکن ہےاس تعداد میں اضافہ کرتے ہوئے اسی طرح کسی بزرجمہر نے’’ لعنتُ ‘‘ پر موجود پیش کو بھی حرف سمجھ کر پانچ حرف بھیجنے کا محاورہ بنا ڈالا ہو مگر لگتا ہے ابھی لوگاں اتّے عقلمند نہیں ہوئے ۔۔ حالانکہ میرے خیال میں اگر یہ پانچ حروف بھیجنے والا محاورہ ایجاد ہو جاتا تو یہ تین حروف بھیجنے والے محاورے سے بھی کئی گنا بہتر ہو جاتا- لوگ سوچتے ہی رہ جاتے کہ یہ پانچ حروف کون کون سے ہیں اور ان سے کیا مراد ہے۔

ان دو اور چار حروف بھیجنے کا محاورہ بنانے والوں کہ سامنے شاید تین حروف بھیجنے کا محاورہ نہیں تھا۔ حالانکہ تین حرف بھیجنے میں جو حکمت ہے جو نازکی ہے وہ چار حرف بھیجنے میں اس وقت ذلت میں بدل جاتی ہے۔ جب سننے والوں کے کان میں اس کا مطلب فوری طور پر واضح ہو جاتا ہے۔ جبکہ تین حروف بھیجنے والے محاورے اگرچہ سننے والے کو اس کا مفہوم معلوم ہوتا ہے لیکن اس کے باوجود اگلا سوچتا ہی رہتا ہے کہ ان تین حروف سے کیا مراد ہے ۔دوسرا کچھ کیا کہنا چاہ رہا ہے۔۔۔
اسی لحاظ میں میں کہنا چاہتا ہوں کہ جب چار حروف میں بات کھل ہی جاتی ہے اور سیدھی اگلے کے دل پر جا کر لگتی ہے تو ایسے واہیات محاورے سے خود کو اور دوسرے کو شرمندہ کرنے کا کیا!! اس کے برا اس کے بجائے اپ اس سے براہ راست کہہ سکتے ہیں کہ میں اپ پر لعنت بھیجتا ہوں یا اگر زیادہ ہمت ہو تو ہاتھ کا تھلا بھی دکھا سکتے ہیں۔ تاکہ اگلے شخص کو براہ راست پتہ ہو کہ اس کے بارے میں اپ کے کیا خیالات ہیں اور وہ پھر اپ کو کھل کر جواب بھی دے سکے۔

اس کے علاوہ سوچنے والی بات یہ ہے کہ جب اردو میں ایک انتہائی بہترین محاورہ موجود تھا تو اس کے مقابلے میں مزید دو کمتر محاورے ایجاد کرنے کی کیا نہ صرف ضرورت تھی بلکہ جب عوام نے یہ محاورے ایجاد کر ہی لیے تھے تو انہیں لغت میں جگہ دینے کی ایسی کیا ضرورت تھی؟؟

ویسے یہ دو اور چار حروف بھیجنے والے محاورے پڑھنے کے بعد میں خود کنفیوز ہو گیا ہوں کہ میں اگر کسی سے ناراض ہو کر تو غصے میں کسی پر کچھ بھیجنا چاہوں تو کیا میں دو حروف بھیجوں یا تین حروف بھیجوں یا چار حرف بھیجوں۔۔ یا پھر تینوں محاورے اکٹھے بھیج دو۔ ہاہا ویسے اپس کی بات ہے کہ اندر سے میرا دل شدت سے چاہ رہا ہے کہ میں “دو اور چار حروف بھیجنا ” والے محاورے ایجاد کرنے والوں پر تین حرف بھیج ہی دوں!!!!

کیا فرماتے ہیں علمائے و فقہائے اردو اس معاملے میں؟؟؟

اپنا تبصرہ لکھیں