من گھڑت چیزیں واقعی خوبصورت ہوتی ہیں۔ سچ تو اکثر ننگا، بدصورت اور پسینے سے شرابور ہوتا ہے۔ وہ عدالت کے کٹہرے میں کھڑا ہانپ رہا ہوتا ہے یا کسی سرکاری دفتر کے باہر فائلوں کے نیچے دبا سسک رہا ہوتا ہے۔ لیکن جھوٹ! جھوٹ کے بال ہمیشہ کنگھی شدہ ہوتے ہیں۔ اس کی قمیص پر شکن نہیں پڑتی۔ اور من گھڑت باتیں تو ایسی ہوتی ہیں جیسے کسی غریب کی بیٹی خواب میں شہزادی بن جائے۔
تم نے ایک دن مجھ سے کہا تھا:
“من گھڑت چیزیں خوبصورت ہوتی ہیں، جیسے کہ تمہاری اور میری وہ ملاقات جو چاند کے اُس پار تھی۔”
میں نے ہنس کر سگریٹ سلگا لیا تھا۔
کیونکہ میں جانتا تھا کہ نہ تم تھیں، نہ میں تھا، نہ کوئی ملاقات ہوئی تھی اور نہ چاند کے اُس پار کوئی جگہ موجود تھی جہاں دو تنہا انسان اپنے زخم اتار کر رکھ سکتے۔
لیکن پھر بھی وہ بات مجھے اچھی لگی۔
اس لیے نہیں کہ وہ سچی تھی۔
بلکہ اس لیے کہ وہ جھوٹ بہت خوبصورت تھا۔
—
میرا نام شاید سلیم تھا۔
شاید اس لیے کہ اب مجھے یقین نہیں۔
آدمی جب بہت زیادہ تنہا ہو جائے تو اپنے نام پر بھی شک ہونے لگتا ہے۔
میں لاہور کی ایک تنگ گلی میں رہتا تھا۔ کمرہ چھوٹا تھا۔ چھت سے چونا جھڑتا تھا۔ ایک چارپائی تھی، ایک ٹوٹی کرسی، اور ایک کھڑکی جو سامنے والی دیوار کے سوا کچھ نہیں دکھاتی تھی۔
دن بھر اخبار کے دفتر میں پروف ریڈنگ کرتا۔
دوسروں کی غلطیاں درست کرتا۔
اپنی غلطیاں میرے بس میں نہیں تھیں۔
رات کو واپس آتا تو کمرے میں خاموشی میرا انتظار کر رہی ہوتی۔
وہ خاموشی بھی عجیب تھی۔
بعض اوقات محسوس ہوتا جیسے کسی عورت نے سفید کپڑے پہن رکھے ہوں اور کمرے کے کونے میں بیٹھی مجھے دیکھ رہی ہو۔
میں پوچھتا:
“کون ہو؟”
وہ خاموش رہتی۔
پھر میں سگریٹ سلگا لیتا۔
خاموشی دھوئیں میں تحلیل ہو جاتی۔
—
تم سے میری ملاقات بھی شاید اسی خاموشی نے کروائی تھی۔
ایک رات میں حسبِ معمول چھت پر بیٹھا تھا۔
آسمان میں پورا چاند تھا۔
میں چاند کو دیکھ رہا تھا اور سوچ رہا تھا کہ زمین پر جتنے عاشق ہیں، سب کتنے بے وقوف ہیں۔
وہ چاند کو محبوب کا چہرہ سمجھتے ہیں۔
حالانکہ چاند پر گڑھے ہیں، دھبے ہیں، ویرانی ہے۔
محبت بھی شاید ایسی ہی ہوتی ہے۔
دور سے حسین۔
قریب سے زخمی۔
اسی وقت مجھے آواز سنائی دی۔
“تم چاند کو اس طرح کیوں دیکھتے ہو جیسے اُس نے تمہارے پیسے کھا لیے ہوں؟”
میں چونک گیا۔
سامنے کوئی نہیں تھا۔
پھر آواز آئی۔
“اوپر دیکھو۔”
میں نے آسمان کی طرف دیکھا۔
چاند وہیں تھا۔
لیکن اب مجھے یوں محسوس ہوا جیسے چاند کے کنارے پر ایک لڑکی بیٹھی ہو۔
ٹانگیں لٹکائے۔
بال ہوا میں اڑتے ہوئے۔
اور وہ ہنس رہی ہو۔
—
“تم کون ہو؟”
میں نے پوچھا۔
“یہی سوال میں بھی تم سے پوچھ سکتی ہوں۔”
“میں سلیم ہوں۔”
“جھوٹ۔”
“کیوں؟”
“کیونکہ تم خود اپنے نام پر یقین نہیں رکھتے۔”
میں خاموش ہو گیا۔
وہ ہنسی۔
ایسی ہنسی جیسے شیشے کے گلاس میں برف کے ٹکڑے ڈالے جائیں۔
“تم کون ہو؟”
میں نے دوبارہ پوچھا۔
“میں کوئی نہیں۔”
“نام؟”
“ناموں سے کیا ہوتا ہے؟”
“پہچان ہوتی ہے۔”
“پہچانیں سب سے بڑا دھوکا ہیں۔”
—
اس رات ہماری باتیں ہوتی رہیں۔
وہ چاند کے کنارے بیٹھی رہی۔
میں اپنی چھت پر۔
وہ عجیب عجیب باتیں کرتی۔
کبھی کہتی:
“زمین پر لوگ محبت نہیں کرتے، صرف ملکیت چاہتے ہیں۔”
کبھی کہتی:
“انسان اپنے زخموں سے زیادہ اپنے بہانوں سے محبت کرتا ہے۔”
کبھی کہتی:
“تم بہت تنہا ہو۔”
میں پوچھتا:
“تمہیں کیسے معلوم؟”
وہ جواب دیتی:
“کیونکہ میں بھی تنہا ہوں۔”
—
اس کے بعد یہ معمول بن گیا۔
ہر رات وہ آتی۔
چاند کے کنارے بیٹھتی۔
اور ہم باتیں کرتے۔
میں نے کبھی نہیں پوچھا کہ وہ حقیقت میں کہاں رہتی ہے۔
کیونکہ مجھے ڈر تھا کہ کہیں وہ حقیقت میں موجود ہی نہ ہو۔
بعض رشتے سوالوں سے مر جاتے ہیں۔
—
ایک رات میں نے اس سے پوچھا:
“کیا تم واقعی ہو؟”
وہ دیر تک خاموش رہی۔
پھر بولی:
“تم واقعی ہو؟”
میں جواب نہ دے سکا۔
کیونکہ دن بھر دفتر میں بیٹھ کر مجھے خود بھی ایسا لگتا تھا جیسے میں کوئی انسان نہیں، صرف ایک سایہ ہوں۔
وہ بولی:
“اگر تم خواب ہو تو میں بھی خواب ہوں۔”
“اور اگر میں حقیقت ہوں؟”
“تو پھر مجھے تم سے ڈر لگتا ہے۔”
“کیوں؟”
“کیونکہ حقیقتیں بہت ظالم ہوتی ہیں۔”
—
میں اس سے محبت کرنے لگا تھا۔
شاید۔
یا شاید میں اپنی تنہائی سے محبت کرنے لگا تھا جس نے اس کا روپ دھار لیا تھا۔
فرق بتانا مشکل تھا۔
—
ایک رات اُس نے کہا:
“چلو۔”
“کہاں؟”
“چاند کے اُس پار۔”
میں ہنس پڑا۔
“پاگل ہو؟”
“ہاں۔”
“میں کیسے آؤں؟”
“آنکھیں بند کرو۔”
میں نے آنکھیں بند کر لیں۔
—
جب آنکھیں کھولیں تو ہم واقعی چاند کے اُس پار تھے۔
اب تم کہو گے کہ یہ ناممکن ہے۔
بالکل۔
لیکن افسانے ناممکن چیزوں سے بنتے ہیں۔
ممکن چیزوں سے تو پولیس رپورٹ بنتی ہے۔
—
چاند کے اُس پار کوئی گڑھا نہیں تھا۔
کوئی پتھر نہیں تھا۔
وہاں ایک خاموش شہر آباد تھا۔
درخت تھے۔
سفید رنگ کے۔
ندی تھی۔
چاندی کی طرح چمکتی ہوئی۔
اور وہاں لوگ بھی تھے۔
لیکن اُن کے چہرے نہیں تھے۔
صرف آنکھیں تھیں۔
بڑی بڑی آنکھیں۔
—
“یہ کون ہیں؟”
میں نے پوچھا۔
وہ بولی:
“یہ وہ لوگ ہیں جو زمین پر بہت زیادہ محبت کرتے تھے۔”
“پھر؟”
“پھر حقیقت نے انہیں مار دیا۔”
“اور اب؟”
“اب یہ یہاں رہتے ہیں۔”
—
ہم ایک گلی سے گزرے۔
ایک بوڑھا آدمی بیٹھا تھا۔
گود میں ٹوٹی ہوئی گھڑی۔
وہ مسلسل سوئیاں جوڑنے کی کوشش کر رہا تھا۔
میں نے پوچھا:
“یہ کون ہے؟”
وہ بولی:
“اس نے ساری زندگی وقت کو روکنا چاہا تھا۔”
—
آگے ایک عورت بیٹھی تھی۔
اس کی گود میں خالی کپڑا تھا۔
وہ کسی نظر نہ آنے والے بچے کو لوری سنا رہی تھی۔
“یہ؟”
“اس کا بچہ مر گیا تھا۔”
“پھر؟”
“اس نے مرنے سے انکار کر دیا۔”
—
مجھے عجیب خوف محسوس ہونے لگا۔
یہ شہر خوابوں کا قبرستان تھا۔
ہر شخص کسی نامکمل خواہش کے ساتھ زندہ تھا۔
—
“ہم یہاں کیوں آئے ہیں؟”
میں نے پوچھا۔
وہ رک گئی۔
پھر آہستہ سے بولی:
“تمہیں دکھانے کے لیے کہ من گھڑت چیزیں کیوں خوبصورت ہوتی ہیں۔”
“کیوں؟”
“کیونکہ حقیقت اُنہیں جینے نہیں دیتی۔”
—
میں نے پہلی بار غور سے اس کی طرف دیکھا۔
وہ بہت حسین تھی۔
لیکن اس کی آنکھوں میں ایسی اداسی تھی جو خوبصورتی کو بھی زخمی کر دیتی ہے۔
میں نے پوچھا:
“تم کون ہو؟”
اس نے جواب نہیں دیا۔
—
کافی دیر بعد ہم ایک جھیل کے کنارے بیٹھ گئے۔
پانی میں ستارے تیر رہے تھے۔
میں نے اس کا ہاتھ پکڑ لیا۔
وہ چونکی نہیں۔
صرف مسکرائی۔
“اب بتاؤ، تم کون ہو؟”
اس نے میری طرف دیکھا۔
پھر بولی:
“میں تمہاری ایجاد ہوں۔”
“کیا؟”
“میں تمہارے اندر پیدا ہوئی تھی۔”
“نہیں۔”
“ہاں۔”
“یہ جھوٹ ہے۔”
“میں نے کہا تھا نا، من گھڑت چیزیں خوبصورت ہوتی ہیں۔”
—
میرے جسم میں سرد لہر دوڑ گئی۔
“تم کہنا کیا چاہتی ہو؟”
وہ آہستہ سے بولی:
“میں کبھی موجود نہیں تھی۔”
“نہیں!”
“میں تمہاری تنہائی کا چہرہ ہوں۔”
“جھوٹ!”
“میں تمہارے خوابوں کی آواز ہوں۔”
“نہیں!”
“میں وہ عورت ہوں جسے تم نے کبھی پایا نہیں۔”
—
میں چیخ پڑا۔
“خاموش!”
وہ خاموش ہو گئی۔
پھر اس کی آنکھوں میں نمی اتر آئی۔
“دیکھا؟”
اس نے کہا۔
“حقیقت کتنی بدصورت ہوتی ہے۔”
—
اسی لمحے مجھے محسوس ہوا کہ چاند کے اُس پار کا پورا شہر ٹوٹنے لگا ہے۔
درخت دھند میں بدل رہے تھے۔
جھیل غائب ہو رہی تھی۔
لوگ تحلیل ہو رہے تھے۔
—
“یہ کیا ہو رہا ہے؟”
میں نے گھبرا کر پوچھا۔
وہ بولی:
“تم جاگ رہے ہو۔”
“اور تم؟”
“میں سو رہی ہوں۔”
—
میں نے اس کا ہاتھ مضبوطی سے پکڑ لیا۔
“مت جاؤ۔”
وہ مسکرائی۔
“میں کبھی آئی ہی کب تھی؟”
—
پھر سب کچھ غائب ہو گیا۔
—
جب میری آنکھ کھلی تو میں اپنے کمرے میں تھا۔
وہی چھت۔
وہی دیوار۔
وہی خاموشی۔
—
میں نے کئی راتیں چاند کو دیکھا۔
وہ دوبارہ نہ آئی۔
مہینے گزر گئے۔
سال گزر گئے۔
میں بوڑھا ہو گیا۔
بال سفید ہو گئے۔
آنکھوں کے گرد جھریاں پڑ گئیں۔
لیکن ہر پورنماسی کی رات میں چھت پر ضرور جاتا۔
شاید وہ واپس آ جائے۔
—
ایک رات آخری بار چاند بہت روشن تھا۔
میں نے آسمان کی طرف دیکھا۔
اور مجھے یوں محسوس ہوا جیسے چاند کے کنارے پر کوئی بیٹھا ہے۔
دھندلا سا وجود۔
ہلکی سی مسکراہٹ۔
—
پھر ایک آواز آئی۔
بہت دور سے۔
بہت نرم۔
“من گھڑت چیزیں خوبصورت ہوتی ہیں…”
میں نے آنکھیں بند کر لیں۔
“…جیسے کہ تمہاری اور میری وہ ملاقات جو چاند کے اُس پار تھی۔”
میں مسکرا دیا۔
اس بار میں نے بحث نہیں کی۔
میں نے یہ ثابت کرنے کی کوشش بھی نہیں کی کہ وہ جھوٹ تھی۔
کیونکہ عمر کے آخری کنارے پر پہنچ کر مجھے ایک بات سمجھ آ گئی تھی۔
انسان سچائی سے زندہ نہیں رہتا۔
انسان چند خوبصورت فریبوں کے سہارے زندہ رہتا ہے۔
ایک ماں کا یقین کہ اس کا بیٹا واپس آئے گا۔
ایک عاشق کا یقین کہ محبوب اسے یاد کرتا ہے۔
ایک شاعر کا یقین کہ اس کے لفظ مرنے کے بعد بھی زندہ رہیں گے۔
اور ایک تنہا آدمی کا یقین کہ چاند کے اُس پار کوئی ہے جو اس کا انتظار کر رہا ہے۔
شاید یہی وجہ ہے کہ خدا نے خواب بنائے۔
اور شاید اسی لیے انسان نے کہانیاں۔
کیونکہ حقیقت روٹی دیتی ہے، مگر جینے کا حوصلہ نہیں دیتی۔
حوصلہ تو وہی من گھڑت چیزیں دیتی ہیں جنہیں ہم کبھی خواب، کبھی محبت، کبھی امید اور کبھی چاند کے اُس پار ہونے والی ایک ناممکن ملاقات کا نام دے دیتے ہیں۔
اور عجیب بات یہ ہے کہ آخرکار انسان مر بھی انہی من گھڑت چیزوں پر یقین رکھتے ہوئے جاتا ہے۔
میں بھی اُس رات شاید مر گیا تھا۔
یا شاید سو گیا تھا۔
فرق اب مجھے یاد نہیں۔
بس اتنا یاد ہے کہ چاند پہلے سے بہت قریب آ گیا تھا۔
اور اُس کے کنارے پر بیٹھی ایک لڑکی ہنس رہی تھی۔


