نوٹ : یہ یولیسس کے پہلے حصّے کے ایک جزو کے پہلے لیکچر کا خلاصہ ہے۔ اصل لیکچر 11 ہزار الفاظ سے زائد اور متعدد جہات پر تفصیلی گفت و شنید پر مبنی ہے جسے فیس بک پر پوسٹ نہیں کیا جاسکتا ۔
مذبح، آئینہ اور استرا
یولیسس کی پہلی قسط کا تفصیلی خلاصہ اور تنقیدی مطالعہ
جیمس جوائس کے یولیسس کا آغاز کسی ایسے واقعے سے نہیں ہوتا جسے روایتی ناول نگاری کی زبان میں غیر معمولی یا سنسنی خیز کہا جاسکے۔ نہ کوئی قتل ہوتا ہے، نہ کسی سلطنت کا زوال، نہ عاشق و معشوق کی پہلی ملاقات، نہ کوئی پراسرار خط پہنچتا ہے اور نہ ہی کسی خاندانی المیے کا اعلان کیا جاتا ہے۔ صبح کے وقت ایک فربہ نوجوان سیڑھیوں کے دہانے سے نمودار ہوتا ہے، ہاتھ میں صابن کے جھاگ کا پیالہ اٹھائے ہوئے ہے، پیالے پر آئینہ اور استرا رکھے ہیں، اور وہ حجامت بنانے کی تیاری کررہا ہے۔ بظاہر اس سے زیادہ معمولی، روزمرہ اور غیر رزمیہ منظر شاید ہی کسی بڑے ناول کے آغاز کے لیے چنا جاسکتا تھا۔ لیکن جوائس کی غیر معمولی قوت اسی جگہ ظاہر ہوتی ہے: وہ اس معمولی عمل میں مذہبی رسم، فوجی یادگار، تھیٹریکل اداکاری، جسمانی حقیقت، تہذیبی تاریخ، ذاتی تحقیر اور جدید انسان کے روحانی بحران کو اس طرح یکجا کردیتا ہے کہ حجامت کا ایک پیالہ قربان گاہ کا جام بن جاتا ہے، آئینہ اور استرا صلیب کی شکل اختیار کرلیتے ہیں، توپ کا چبوترا منبر میں بدل جاتا ہے اور صبح کی نرم ہوا کسی عظیم مذہبی جلوس کا غیر مرئی خادم معلوم ہونے لگتی ہے۔
ناول کے پہلے دو لفظ، Stately, plump، بک ملیگن کے کردار کا پورا ابتدائی خاکہ کھینچ دیتے ہیں۔ Stately میں وقار، تمکنت، شاہانہ چال اور رسمی عظمت کا احساس ہے، جب کہ plump اسے فوراً گوشت، فربہی اور جسمانی وزن کی دنیا میں واپس لے آتا ہے۔ وہ ایک ہی لمحے میں شاہانہ بھی ہے اور گول مٹول بھی، پادری بھی ہے اور مسخرا بھی، مذہبی اداکار بھی ہے اور صبح کی حجامت کے لیے نکلنے والا ایک بے تکلف نوجوان بھی۔ جوائس عظمت کے ساتھ فربہی کو رکھ کر اس کردار کے گرد بننے والی ہیبت میں ایک باریک طنزیہ سوراخ کردیتا ہے۔ بک ملیگن خود کو اسٹیج کے مرکزی کردار کی طرح پیش کرتا ہے، لیکن اس کے شاہانہ جلوس کے مرکز میں مقدس تبرک نہیں بلکہ صابن کا جھاگ ہے۔ یہاں سے ناول کی وہ بنیادی حس سامنے آتی ہے جس میں انسانی تہذیب کے بڑے بڑے دعوے جسم، خوراک، فضلے، خون، جلد، بال، بیماری اور روزمرہ عادات کے مقابل لاکر دیکھے جائیں گے۔
ملیگن سیڑھیوں کے بالائی دہانے سے باہر آتا ہے۔ یہ حرکت بھی محض مکانی نہیں۔ وہ تاریک اندرونی حصے سے کھلے آسمان اور صبح کی روشنی میں نمودار ہورہا ہے، جیسے کوئی اداکار پس پردہ تاریکی سے اسٹیج پر داخل ہو۔ اس کے ہاتھ میں صابن کے جھاگ کا پیالہ ہے، مگر جوائس اس کے لیے عام لفظ carrying استعمال نہیں کرتا بلکہ bearing لکھتا ہے۔ اس لفظ میں کسی مقدس شے، شاہی نشان، مذہبی تبرک یا رسمی بوجھ کو اٹھانے کا وقار شامل ہے۔ پیالے پر آئینہ اور استرا ایک دوسرے کو کاٹتے ہوئے پڑے ہیں۔ یہ دونوں اشیا ایک صلیب کا بصری نقش بناتی ہیں، مگر اس صلیب کے اجزا بھی خاصے معنی خیز ہیں۔ آئینہ خود شناسی، خود نمائی اور چہرے کی عارضی صورت کا نشان ہے، جب کہ استرا دھار، زخم، جسمانی تبدیلی اور ممکنہ خون کی طرف اشارہ کرتا ہے۔ یوں ناول کے پہلے ہی جملے میں خود شناسی اور تشدد، ظاہری صورت اور کٹاؤ، مذہبی صلیب اور حجامت کی روزمرہ ضرورت ایک ہی سطح پر جمع ہوجاتے ہیں۔
ملیگن کا زرد چوغہ کمر بند کے بغیر کھلا ہوا ہے اور صبح کی ملائم ہوا اسے اس کے پیچھے اٹھائے ہوئے ہے۔ جملے کی نحوی ساخت یہاں بھی معنی پیدا کرتی ہے۔ جوائس یہ نہیں کہتا کہ ہوا نے چوغہ اڑا دیا؛ وہ لکھتا ہے کہ چوغہ ہوا پر نرمی سے سنبھلا ہوا تھا۔ اس بیان میں ایک ایسی رسمی لطافت ہے جیسے کسی پادری یا بادشاہ کا دامن کوئی غیر مرئی خادم اٹھائے چل رہا ہو۔ لیکن یہ لباس پوری طرح بندھا ہوا نہیں۔ وہ مذہبی یا شاہانہ وقار کی نقل تو کرتا ہے، مگر ضبط، اطاعت اور رسمی ترتیب سے آزاد ہے۔ ملیگن مذہبی لباس پہن سکتا ہے، پادری کی لے اختیار کرسکتا ہے، صلیب کے نشان بنا سکتا ہے، لیکن وہ کسی عقیدے کا تابع نہیں۔ وہ مذہب کو اپنے تھیٹر کے لیے استعمال کرتا ہے۔ اس کے لیے مقدس روایت ایک ایسا ذخیرہ ہے جس سے آوازیں، حرکات، لباس اور مضحکہ خیز اثرات اخذ کیے جاسکتے ہیں۔
وہ جھاگ کے پیالے کو بلند کرتا ہے اور لاطینی عبادتی لے میں کہتا ہے: Introibo ad altare Dei، یعنی “میں خدا کی قربان گاہ کی طرف بڑھوں گا۔” یہ فقرہ قدیم لاطینی عبادت کے ابتدائی کلمات میں شامل ہے۔ ملیگن کا پیالہ عشائے ربانی کے جام کی جگہ لے لیتا ہے، صابن کا سفید جھاگ مقدس مادے کی طنزیہ صورت بن جاتا ہے، اور حجامت کی تیاری قربان گاہ کی رسم میں بدل جاتی ہے۔ لیکن یہاں مذہبی عبارت کی محض توہین نہیں کی جارہی۔ ملیگن اس رسم کی ڈرامائی قوت بھی چرا لیتا ہے۔ اسے معلوم ہے کہ لباس، آہنگ، بلند کی ہوئی شے اور رسمی حرکت کس طرح دیکھنے والے پر اثر ڈالتی ہے۔ وہ ایمان کو قبول نہیں کرتا، مگر ایمان کی تھیٹریکل ساخت سے فائدہ اٹھاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس کا کفر بھی مذہبی زبان کا محتاج ہے۔ وہ جس روایت کا مذاق اڑاتا ہے، اپنی اداکاری کی قوت بھی اسی سے حاصل کرتا ہے۔
اس کے بعد وہ تاریک، بل کھاتی سیڑھیوں میں جھانکتا ہے اور کرخت آواز میں اسٹیفن کو پکارتا ہے: “اوپر آؤ، کنچ! اوپر آؤ، اے خوف ناک جیسوئٹ!” ابھی چند لمحے پہلے اس کی آواز عبادتی اور موسیقیت سے بھرپور تھی؛ اب اچانک وہ بھدی، بے تکلف اور حکم دینے والی ہوجاتی ہے۔ اس تیز تبدیلی سے ملیگن کی شخصیت کا بنیادی وصف سامنے آتا ہے۔ وہ آوازوں کا فنکار ہے، مگر کسی ایک آواز سے وابستہ نہیں۔ وہ پادری، فوجی افسر، واعظ، اسٹیج ڈائریکٹر، شعبدہ باز اور طبی طالب علم کے لہجے ایک دوسرے کے اندر داخل کرسکتا ہے۔ اس کی آزادی میں تخلیقی شوخی ہے، لیکن اسی کے ساتھ ایک اخلاقی سطحیت بھی۔ وہ ہر سنجیدہ تجربے کو نقل، فقرے اور اداکاری میں بدل سکتا ہے۔ اس کے لیے دوسرے انسان کا زخم بھی ایک اچھے مذاق کا موقع بن سکتا ہے۔
اسٹیفن کے لیے استعمال ہونے والا لقب Kinch دھار، چھری یا باریک تیز پھل کی یاد دلاتا ہے۔ اسٹیفن کا جسم ملیگن کی طرح توانا، فربہ اور نمایاں نہیں؛ اس کی اصل قوت اس کی ذہانت اور زبان کی دھار ہے۔ وہ خاموش رہ کر بھی ملیگن کے لیے خطرہ بن سکتا ہے، کیونکہ اس کی نگاہ اور فن استرے کی طرح کاٹ سکتے ہیں۔ Jesuit کا لفظ اسٹیفن کی مذہبی تعلیم، اس کے کیتھولک ماضی اور اس احساسِ جرم کی طرف اشارہ کرتا ہے جس سے بغاوت کے باوجود وہ آزاد نہیں ہوسکا۔ اسٹیفن نے ممکن ہے عقیدے کو ترک کردیا ہو، مگر عقیدے کی زبان، گناہ کا تصور، اعتراف، ماں کی موت، دعا سے انکار اور روحانی سزا کا خوف اب بھی اس کے ذہن میں زندہ ہیں۔ وہ کلیسا سے نکل چکا ہے، لیکن کلیسا اس کے شعور سے نہیں نکلا۔
ملیگن توپ کے گول چبوترے پر چڑھتا ہے۔ مارٹیلو ٹاور بنیادی طور پر ایک فوجی عمارت ہے، جو فرانسیسی حملے کے خوف کے زمانے کی یادگار ہے۔ توپ رکھنے کا مقام اب منبر، قربان گاہ اور اسٹیج بن جاتا ہے۔ یوں مذہب، فوج اور تھیٹر ایک ہی دائرے میں جمع ہوجاتے ہیں۔ اقتدار کی یہ تینوں صورتیں بلند جگہ، حکم دینے والی آواز، رسمی لباس اور دیکھنے والوں کی موجودگی کی محتاج ہیں۔ ملیگن تین بار ٹاور، گرد و پیش کی زمین اور بیدار ہوتے پہاڑوں کو برکت دیتا ہے۔ تین مرتبہ برکت دینا مسیحی تثلیث کی بازگشت پیدا کرتا ہے، مگر یہاں باپ، بیٹے اور روح القدس کی جگہ ٹاور، زمین اور پہاڑ لے لیتے ہیں۔ مذہبی تثلیث کو آئرش منظرنامے میں منتقل کرکے ملیگن اسے مضحکہ خیز بھی بناتا ہے اور کسی حد تک ایک نئے غیر مذہبی تقدس میں بھی بدل دیتا ہے۔ صبح کے پہاڑ “بیدار” ہورہے ہیں؛ گویا ناول کا پورا جغرافیہ شعور حاصل کررہا ہو۔
اسٹیفن پر نظر پڑتے ہی ملیگن اس کی طرف جھکتا، ہوا میں تیزی سے صلیب کے نشان بناتا، حلق سے غرغراہٹ نکالتا اور سر ہلاتا ہے۔ یہ حرکت بیک وقت برکت، بدروح نکالنے کی رسم، پادری کی نقل، طبی تشخیص اور مسخرے کی ادا معلوم ہوتی ہے۔ مقدس علامت تیز رفتار اشارے میں بدل جاتی ہے، واضح مذہبی عبارت حلق کی غیر واضح غڑغڑاہٹ میں تحلیل ہوجاتی ہے، اور اسٹیفن کو برکت دینے کے بہانے اسے کسی ناپاک، بیمار یا مضحکہ خیز وجود کی طرح پیش کیا جاتا ہے۔ تمسخر یہاں محض بے ضرر مزاح نہیں؛ یہ طاقت کا مظاہرہ ہے۔ جو شخص دوسرے کو لقب دیتا، اسے پکارتا، اس پر نشان بناتا اور اپنے سامعین کے سامنے اس کی تعریف متعین کرتا ہے، وہ اس لمحے سماجی اسٹیج پر برتر مقام حاصل کرلیتا ہے۔
اسٹیفن کی پہلی واضح تصویر ملیگن کے بالکل برعکس ہے۔ وہ ناراض، نیند سے بوجھل اور سرد نگاہ ہے۔ اس کے بازو سیڑھیوں کے دہانے پر ٹکے ہیں۔ وہ ابھی پوری طرح روشن چھت پر نہیں آیا؛ اس کا جسم آدھا اندرونی تاریکی اور آدھا خارجی دنیا کے درمیان ہے۔ یہ مکانی کیفیت اس کے پورے روحانی وجود کی علامت بن جاتی ہے۔ وہ مذہبی ماضی اور فکری بغاوت کے درمیان، وطن اور جلاوطنی کے درمیان، خاموشی اور فن کے درمیان، خاندانی وابستگی اور انکار کے درمیان معلق ہے۔ ملیگن مکمل طور پر منظر پر قابض ہے؛ اسٹیفن ابھی منظر کی سرحد پر کھڑا ہے۔ وہ بولنے کے بجائے دیکھتا ہے۔ اس کی خاموشی کمزوری نہیں، ایک ایسی نگاہ کی تیاری ہے جو ظاہری اداکاری کے پیچھے چھپے ہوئے جسم، تاریخ اور تحقیر کو پہچان سکتی ہے۔
اسٹیفن ملیگن کے “لرزتے، غرغراتے” چہرے کو سردی سے دیکھتا ہے۔ جوائس ملیگن کے چہرے کو اپنی طوالت میں گھوڑے جیسا قرار دیتا ہے۔ اس کے بال ہلکے رنگ کے ہیں، راہبوں کی طرح سر کا حلقہ منڈایا ہوا نہیں، اور ان کی رگیں اور رنگت پھیکے بلوط کی لکڑی جیسی ہیں۔ یہ پورٹریٹ ملیگن کو انسان، جانور، لکڑی کے مجسمے اور کلیسائی شخصیت کے درمیان رکھتا ہے۔ اس کا جسم ایک مستحکم شناخت اختیار نہیں کرتا۔ وہ گھوڑے جیسے چہرے، بلوط جیسے بالوں، پادری جیسے لباس اور مسخرے جیسی حرکتوں کا مجموعہ ہے۔ جوائس اپنے کردار کو پہلے اخلاقی صفات کے ذریعے نہیں بلکہ جسمانی تفصیلات، آوازوں، چہرے، جبڑے، دانتوں، بالوں اور حرکات کے ذریعے وجود میں لاتا ہے۔ اس دنیا میں روح کبھی جسم سے الگ ظاہر نہیں ہوتی۔
ملیگن ایک لمحے کے لیے آئینے کے نیچے جھانکتا اور پھر پیالے کو پھرتی سے ڈھانپ دیتا ہے۔ یہ حرکت بھی مذہبی رسم کی نقل معلوم ہوتی ہے، جیسے کوئی مقدس شے دکھا کر دوبارہ پردے میں کردی گئی ہو۔ اس کے بعد وہ فوجی افسر کے لہجے میں حکم دیتا ہے: “واپس بیرکوں میں!” ٹاور کی فوجی تاریخ پھر سطح پر آجاتی ہے۔ ملیگن ایک ہی لمحے میں پادری سے سپہ سالار بن جاتا ہے۔ وہ پیالے، آئینے، استرے اور شاید اپنے خیالی معاونین کو حکم دے رہا ہے۔ اس کے لیے دنیا کی تمام سنجیدہ زبانیں قابلِ نقل ہیں، اور اقتدار کی ہر صورت ایک تھیٹریکل کردار۔
پھر وہ واعظانہ انداز میں اعلان کرتا ہے کہ یہ “اصلی Christine” ہے: “جسم اور روح اور خون اور ouns”۔ اس فقرے میں جوائس کی لسانی شرارت اپنی پوری قوت کے ساتھ سامنے آتی ہے۔ Christine معیاری مذہبی لفظ نہیں۔ یہ Christ، Christian اور ایک عورت کے نام Christine کے درمیان معلق لفظ ہے۔ ملیگن مقدس مردانہ مسیحی شبیہ کو مؤنث، نامانوس اور مزاحیہ صورت میں بدل دیتا ہے۔ اس ایک لفظ سے جنس، مذہب، تقدس اور تھیٹر کے کئی دروازے کھلتے ہیں۔ اسے محض “مسیحی عورت” کہنا ناکافی ہوگا اور صرف “مؤنث مسیح” کہنے سے اس کی صوتی شرارت کھو جائے گی۔ اردو میں “مسیحنی” ایک ایسا تخلیقی امکان فراہم کرتا ہے جو اس تحریف کی کچھ عجیب و غریب کیفیت کو محفوظ رکھ سکتا ہے۔
“جسم اور روح اور خون اور ouns” میں آخری لفظ بھی بگڑا ہوا ہے۔ اسے عموماً wounds یعنی زخموں کی کٹی ہوئی، بولیاتی یا مسخ شدہ صورت سمجھا جاتا ہے۔ یوں مسیح کے جسم، روح، خون اور زخموں کا مذہبی مجموعہ ایک شعبدہ بازانہ اعلان میں بدل جاتا ہے۔ لفظ wounds کا ابتدائی حرف غائب ہوجاتا ہے؛ گویا استرے نے لفظ کو بھی کاٹ دیا ہو۔ مذہبی جسم کے زخم اب زبان کے جسم میں ظاہر ہوتے ہیں۔ بار بار آنے والا “اور” اس فہرست کو خطیبانہ بھی بناتا ہے اور بچوں کے کھیل جیسا بھی۔ کلیسائی الٰہیات مداری کے اعلان، بازار کے تماشے اور مضحکہ خیز تشہیر کے لہجے میں داخل ہوجاتی ہے۔
ملیگن خیالی سازندوں سے دھیمی موسیقی کی فرمائش کرتا ہے، حضرات کو آنکھیں بند کرنے کا حکم دیتا ہے اور کہتا ہے کہ سفید خلیوں کے معاملے میں ذرا دقت پیش آگئی ہے۔ یہاں مذہبی رسم تھیٹر، طبی تجربہ اور برقی شعبدے میں بدل جاتی ہے۔ عشائے ربانی میں شراب مسیح کے خون کی علامت بنتی ہے، لیکن ملیگن کے پیالے میں سفید جھاگ موجود ہے۔ وہ اس سفیدی کو خون کے سفید خلیوں سے جوڑ کر گویا اعتراف کرتا ہے کہ اس کا معجزہ ابھی درست طور پر مکمل نہیں ہوا۔ مقدس تبدیلی کسی خراب سائنسی تجربے کی صورت اختیار کرلیتی ہے۔ طبی طالب علم مذہبی اسرار کو جسم، خون، خلیے اور کیمیائی عمل میں توڑتا ہے، مگر اس کا طنز خود اس حقیقت کو بھی ظاہر کرتا ہے کہ سائنسی زبان انسانی تجربے کے تمام راز ختم نہیں کرسکتی۔ سفید خلیوں کی تشریح کی جاسکتی ہے، مگر موت، ایمان، جرم، خواہش اور توہین کو کس تجربہ گاہ میں ناپا جائے؟
“آنکھیں بند کرلیجیے” کا حکم بھی معنی خیز ہے۔ معجزہ دیکھنے کے لیے آنکھیں کھولنے کے بجائے بند کرنا ہوں گی۔ شعبدہ باز کو کامیابی کے لیے ناظر کی عارضی نابینائی درکار ہے۔ اسی طرح مذہبی ایمان پر طنز کرتے ہوئے ملیگن یہ ظاہر کرتا ہے کہ بعض تقدس نگاہ کی معطلی سے پیدا ہوتے ہیں۔ لیکن خود ملیگن بھی ناظرین کی ضرورت رکھتا ہے۔ اس کا تمسخر اسٹیفن کی موجودگی کے بغیر نامکمل ہے۔ وہ دوسروں کو خاموش ہونے کا حکم دیتا ہے، مگر خود مسلسل بولتا ہے۔ اس کی آزادی مکالماتی نہیں، خطیبانہ ہے؛ وہ اسٹیج بانٹنے سے زیادہ اس پر قبضہ کرنا چاہتا ہے۔
وہ ایک لمبی، دھیمی سیٹی بجاتا ہے اور محویت کے ساتھ جواب کا انتظار کرتا ہے۔ اس کے ہموار سفید دانتوں میں سونے کی بھرائیاں چمک رہی ہیں۔ اسی لمحے متن میں ایک تنہا یونانی لفظ آتا ہے: Chrysostomos۔ اس کے معنی ہیں “زرّیں دہن” یا “سنہرا منہ رکھنے والا”۔ یہ سینٹ جان کرائسوستم کا معروف کلیسائی لقب بھی ہے، جو اپنی خطابت کے باعث “زرّیں دہن” کہلاتا تھا۔ مگر یہاں لفظ کا تعلق ملیگن کے سنہری بھرائی والے دانتوں سے بھی ہے۔ اس ایک لفظ میں جسمانی مشاہدہ، یونانی علم، کلیسائی تاریخ، خطابت اور طنز یکجا ہوجاتے ہیں۔ یہ غالباً وہ باریک مقام ہے جہاں خارجی راوی کی زبان اسٹیفن کے داخلی ذہن میں سرکنے لگتی ہے۔ اسٹیفن مکمل جملے میں نہیں سوچتا کہ ملیگن کا منہ سینٹ جان کرائسوستم کی یاد دلاتا ہے؛ اس کے ذہن میں صرف ایک لفظ چمکتا ہے: “Chrysostomos۔” یہی شعور کی رو کا بنیادی اصول ہے۔ انسانی ذہن ہر وقت مکمل، مرتب اور قواعد کے مطابق جملے نہیں بناتا۔ ایک چمک، ایک نام، ایک بو یا ایک آواز پورے فکری سلسلے کی جگہ لے سکتی ہے۔
ملیگن کی سیٹی کے جواب میں سکون بھری فضا کے پار دو تیز سیٹیاں سنائی دیتی ہیں۔ جوائس یہ نہیں لکھتا کہ سیٹیاں محض سنائی دیں؛ وہ کہتا ہے انہوں نے جواب دیا۔ بے جان صوتی لہریں مذہبی جماعت، اسٹیج کے معاون یا قربان گاہ کی گھنٹیوں کی طرح شریکِ عمل ہوجاتی ہیں۔ ملیگن نامعلوم جواب دینے والے سے “بوڑھے ساتھی” کہہ کر مخاطب ہوتا اور اسے برقی رو بند کرنے کا حکم دیتا ہے۔ خدا، آسمان، فطرت یا دور کی مشین—جو بھی اس کا فرضی معاون ہے—اب تھیٹر کا تکنیکی ملازم بن چکا ہے۔ معجزہ ایک سوئچ سے چلنے والی برقی نمائش ہے۔ مذہبی قدرت، جدید سائنس اور اسٹیج کی تکنیک ایک ہی مضحکہ خیز فقرے میں گھل مل جاتی ہیں۔
اس پوری اداکاری کے بعد ملیگن توپ کے چبوترے سے شاہانہ انداز میں نہیں بلکہ پھدک کر اترتا ہے۔ جوائس پہلے اسے stately، solemnly اور gravely جیسے الفاظ سے بلند کرتا ہے، پھر ایک چھوٹے سے فعل skipped کے ذریعے اس کی ساری مصنوعی عظمت کو اچھلتے ہوئے جسم میں بدل دیتا ہے۔ وہ اپنے چوغے کی ڈھیلی تہیں ٹانگوں کے گرد سمیٹتا ہے اور اپنے واحد واضح تماشائی، اسٹیفن، کو سنجیدگی سے دیکھتا ہے۔ اس کا فربہ، سایہ دار چہرہ اور بھاری بیضوی جبڑا قرونِ وسطیٰ کے کسی دولت مند کلیسائی پیشوا کی یاد دلاتا ہے جو فنون کا سرپرست ہو۔ یہ تشبیہ روحانی ریاضت کرنے والے پادری کی نہیں، بلکہ اقتدار، آسائش، دولت اور جمالیاتی سرپرستی رکھنے والے مذہبی امیر کی ہے۔ ملیگن کا جسم اسی دنیا سے مشابہ ہے جس میں مذہب قربانی سے بڑھ کر ادارہ، جاگیر، ذوق، طاقت اور خوش خوراکی بن چکا ہو۔
اس کے ہونٹوں پر خوشگوار مسکراہٹ پھوٹتی ہے اور وہ اپنے ہی مظاہرے پر فریفتہ ہوکر کہتا ہے: “اس سارے تمسخر کا کیا کہنا!” اس جملے میں اس کا پورا فلسفہ پوشیدہ ہے۔ وہ صرف مذہبی رسم کا مذاق نہیں اڑاتا؛ اپنے مذاق کو بھی ایک فنکارانہ کامیابی سمجھتا ہے۔ وہ اداکار بھی ہے، ناظر بھی اور اپنی اداکاری کا نقاد بھی۔ لیکن “اس سارے تمسخر” میں “اس” کی مراد پوری طرح واضح نہیں۔ کیا مذہبی رسم تمسخر ہے؟ کیا اس کی اپنی اداکاری؟ کیا اسٹیفن کی سنجیدگی؟ کیا انسانی وجود؟ ملیگن کی دنیا میں شاید ہر مقدس شے بالآخر نقل، اقتباس اور مذاق بن سکتی ہے۔ یہی اس کی کشش بھی ہے اور اخلاقی خطرہ بھی۔ جو انسان ہر چیز کا مذاق اڑا سکتا ہو، وہ کسی زخم کے سامنے جواب دہ ہونے سے بھی بچ سکتا ہے۔
وہ اسٹیفن کے نام کو مضحکہ خیز قرار دیتا ہے: “تمہارا یہ نام—کوئی قدیم یونانی!” اسٹیفن ڈیڈلس کا خاندانی نام یونانی اسطورے کے عظیم صانع ڈیڈلس کی یاد دلاتا ہے، جس نے بھول بھلیاں بنائی، پروں کی مدد سے فرار کا راستہ نکالا اور فن، قید، باپ بیٹے کے تعلق اور زوال کی ایک بڑی اساطیری علامت بن گیا۔ ملیگن یونانی تہذیب کا شیدائی ہے، مگر اسٹیفن کے یونانی نام کو چھیڑنے سے باز نہیں آتا۔ اس کا علم وابستگی سے زیادہ کھیل ہے۔ وہ قدیم تہذیبوں، مذہبی رسوم، طبی اصطلاحات اور ادبی حوالوں کو اپنے فقرے کی چمک کے لیے استعمال کرتا ہے۔ اس کے مقابل اسٹیفن کے لیے اسطورہ محض آرائش نہیں؛ اس کی شناخت، فن اور روحانی قید کا مسئلہ ہے۔
ملیگن دوستانہ مذاق کے انداز میں اسٹیفن کی طرف انگلی اٹھاتا اور اپنے ہی فقرے پر ہنستا ہوا فصیل کی منڈیر کی طرف چلا جاتا ہے۔ راوی اس حرکت کو “دوستانہ” قرار دیتا ہے، لیکن اسٹیفن کی سرد نگاہ، بیزاری اور تھکن بتاتی ہے کہ دوستی کا یہ مفہوم یک طرفہ بھی ہوسکتا ہے۔ طاقت ور، خوش گفتار اور پُراعتماد شخص اپنے طنز کو بے ضرر مذاق سمجھتا ہے، جب کہ خاموش شخص اسی مذاق میں تحقیر، بے حسی اور قبضے کی بو محسوس کرسکتا ہے۔ ملیگن کو اپنے مزاح کے لیے دوسرے کی رضامندی درکار نہیں؛ وہ خود ہی سوال، جواب، ہنسی اور تعریف پیدا کرلیتا ہے۔
اسٹیفن آخرکار سیڑھیاں چڑھ کر چھت پر آتا ہے، مگر ملیگن کی طرح مرکزی چبوترے پر قابض نہیں ہوتا۔ وہ تھکے قدموں سے اس کے پیچھے کچھ دور تک جاتا اور توپ کے چبوترے کے کنارے پر بیٹھ جاتا ہے۔ لفظ “کنارہ” اس کی پوری وجودی حالت کو سمیٹ لیتا ہے۔ وہ ٹاور کا کرایہ ادا کرنے والا ہے، مگر سماجی اختیار ملیگن کے پاس ہے۔ وہ آئرش ہے، مگر سادہ قوم پرستی میں پناہ نہیں لے سکتا۔ وہ کلیسا سے باغی ہے، مگر مذہبی احساسِ جرم سے آزاد نہیں۔ وہ فنکار ہے، مگر اس کا فن ابھی دنیا میں اپنی جگہ نہیں بناسکا۔ وہ خاندان کا فرد ہے، مگر گھر نہیں جاسکتا۔ اس لیے وہ ہر جگہ مرکز کے بجائے کنارے پر بیٹھا ہوا انسان ہے۔
وہ خاموشی سے ملیگن کو دیکھتا رہتا ہے، جب کہ ملیگن آئینہ فصیل سے ٹکاتا، برش پیالے میں ڈبوتا اور اپنے گالوں اور گردن پر جھاگ لگاتا ہے۔ اس مختصر اختتامی حرکت میں دونوں کرداروں کا بنیادی فرق پھر نمایاں ہوجاتا ہے۔ اسٹیفن دیکھتا ہے؛ ملیگن کرتا ہے۔ اسٹیفن کی قوت نگاہ، یادداشت اور داخلی تداعی میں ہے؛ ملیگن کی قوت جسم، حرکت، آواز اور سماجی اداکاری میں۔ آئینہ اب مذہبی صلیب کا جزو نہیں بلکہ حجامت کا عملی آلہ ہے، لیکن وہ جلد ہی خود شناسی، آئرش فن، خادم کی شکستہ شناخت اور دوسروں کی نگاہ میں اپنے چہرے کا استعارہ بننے والا ہے۔ استرا گردن کے قریب آنے والا ہے؛ سفید جھاگ ممکنہ خون کو عارضی طور پر چھپا رہا ہے۔ یوں حجامت، قربانی اور ذبح کے درمیان ایک خاموش رشتہ قائم رہتا ہے۔
قسطِ اوّل کا یہ ابتدائی حصہ اس لیے غیر معمولی ہے کہ اس میں ابھی ظاہری طور پر کچھ بھی “بڑا” واقع نہیں ہوا۔ دو نوجوان صبح کے وقت ٹاور کی چھت پر ہیں؛ ایک حجامت بنارہا ہے اور دوسرا اسے دیکھ رہا ہے۔ مگر اسی مختصر منظر میں جوائس نے ناول کے بڑے موضوعات کے بیج رکھ دیے ہیں: مذہب کی طاقت اور اس کی نقل، جسم اور روح کا نزاع، دوستی کے اندر چھپی ہوئی تحقیر، زبان کا اقتدار، نوآبادیاتی عمارت، اساطیری نام، تھیٹر، خود نمائی، خود شناسی، خاموش نگاہ اور جدید انسان کا روحانی بے گھر پن۔ ناول رزمیہ عظمت کو روزمرہ زندگی میں اتارتا ہے، لیکن روزمرہ کو حقیر نہیں بناتا۔ وہ دکھاتا ہے کہ ایک استرا بھی صلیب بن سکتا ہے، صابن کا پیالہ جامِ مقدس، توپ کا چبوترا منبر، سنہری دانت کلیسائی تاریخ کا حوالہ اور صبح کی سیٹی عبادتی جواب۔
اس منظر میں بک ملیگن زندگی کی خارجی، جسمانی، شوخ، پُراعتماد اور تمسخر آمیز قوت ہے۔ اسٹیفن داخلی، زخمی، سرد، ذہین اور سوگوار شعور۔ ملیگن زندگی کو کھیل میں بدلتا ہے؛ اسٹیفن کھیل کے اندر چھپے ہوئے زخم کو دیکھتا ہے۔ ملیگن مذہب کی نقل کرکے خود کو اس سے آزاد سمجھتا ہے؛ اسٹیفن مذہب سے انکار کرکے بھی اس کے بوجھ تلے دبا ہے۔ ملیگن کا جسم ہوا، روشنی، لباس، دانت اور آواز کے ساتھ پھیلتا ہے؛ اسٹیفن کا جسم سیڑھی کے دہانے، تھکے بازو اور سرد نگاہ میں سکڑتا ہے۔ ایک شخص اسٹیج پر ہے، دوسرا تماشائی؛ مگر جوائس ہمیں بتاتا ہے کہ اصل ناول شاید اسٹیج پر ناچنے والے سے زیادہ اس تماشائی کی نگاہ میں جنم لے گا جو ہر ادا کو خاموشی سے اپنے اندر کسی دوسرے لفظ، کسی قدیم نام، کسی مذہبی یاد اور کسی ذاتی زخم سے جوڑ رہا ہے۔
یہی یولیسس کی ابتدائی تربیت ہے۔ قاری کو واقعات کی تیز رفتار تلاش چھوڑ کر لفظوں کے وزن، آواز، ترتیب، جسمانی اشارے اور ثقافتی یادداشت کو دیکھنا ہوگا۔ “Stately” اور “plump” کے درمیان فاصلہ، “bearing” اور “carrying” کا فرق، “intoned” کی عبادتی لے، “Kinch” کی دھار، “Jesuit” کا مذہبی داغ، “Christine” کی جنسی و الٰہیاتی تحریف، “ouns” کا کٹا ہوا زخم اور “Chrysostomos” کی یک لفظی چمک—یہ سب مل کر ثابت کرتے ہیں کہ جوائس کے ہاں کوئی لفظ محض خبر پہنچانے کے لیے نہیں آتا۔ ہر لفظ اپنا ماضی، اپنی آواز، اپنا جسم اور اپنے ممکنہ معانی ساتھ لاتا ہے۔ اسی لیے یولیسس کو پڑھنا کہانی کے پیچھے دوڑنا نہیں، زبان کو اپنی آنکھوں کے سامنے کردار بنتے ہوئے دیکھنا ہے۔
متن کا جامع اور مستند مفہوم
صبح کے وقت بک ملیگن صابن کے جھاگ کا پیالہ اٹھائے مارٹیلو ٹاور کی چھت پر نمودار ہوتا ہے۔ اس کا لباس، پیالہ اٹھانے کا انداز اور لاطینی دعا ایک کیتھولک مذہبی رسم کی نقل پیدا کرتے ہیں۔ پیالے پر رکھے آئینے اور استرے کی صلیبی شکل حجامت کو طنزیہ عبادت میں بدل دیتی ہے۔ ملیگن اسٹیفن کو “کنچ” اور “خوف ناک جیسوئٹ” کہہ کر اوپر بلاتا ہے، توپ کے چبوترے کو منبر بناتا اور ٹاور، زمین اور پہاڑوں کو برکت دینے کی نقل کرتا ہے۔ اسٹیفن، جو نیند سے بوجھل اور ملیگن سے ناخوش ہے، سرد نگاہ سے اس کی مذہبی مسخرا پن بھری اداکاری دیکھتا ہے۔
ملیگن کی زبان مسلسل مذہبی، فوجی، طبی، تھیٹریکل اور مشینی لہجوں کے درمیان بدلتی رہتی ہے۔ وہ جھاگ کے پیالے کو مقدس جام، صابن کو جسم و خون، اور ایک ناکام فرضی معجزے کو سفید خون کے خلیوں کی خرابی قرار دیتا ہے۔ Christine اور ouns جیسے بگاڑے ہوئے الفاظ مذہبی زبان کو مضحکہ خیز، جسمانی اور غیر مستحکم بناتے ہیں۔ اس کے سنہری بھرائی والے دانت دیکھ کر اسٹیفن کے ذہن میں یونانی لفظ Chrysostomos آتا ہے، جس کا مطلب “زرّیں دہن” ہے اور جو ایک مشہور کلیسائی خطیب کا لقب بھی تھا۔ یہ لفظ اسٹیفن کے داخلی شعور کے نمودار ہونے کی پہلی اہم علامت ہے۔
ملیگن اپنی اداکاری سے لطف اندوز ہوتا، اسٹیفن کے یونانی نام کا مذاق اڑاتا اور فصیل کی طرف چلا جاتا ہے۔ اسٹیفن تھکے قدموں سے اس کے پیچھے آتا، توپ کے چبوترے کے کنارے پر بیٹھتا اور اسے حجامت بناتے دیکھتا رہتا ہے۔ پورا منظر دونوں کرداروں کے بنیادی فرق کو نمایاں کرتا ہے: ملی


