شہزادی کا جسم سردی سے کانپ رہا تھا۔ ا سے سانس لینے میں دشواری ہو رہی تھی۔ وہ پہلی مرتبہ کراچی سے لاہور اپنی خالہ کے گھرجا رہی تھی۔ وہ بہت پرجوش تھی۔ کافی عرصے سے اس کے دل میں ایک خواہش مچل رہی تھی کہ وہ ایک دفعہ لاہور ضرور جاۓ گی۔ سوچ رہی تھی کہ لآہور پہنچ کر وہ اپنی کزن کے ساتھ تاریخی شہر لاہور کی خوب سیر کرے گی۔ شاہی قلعہ، بادشاہی مسجد، شالا مار باغ ، شیش محل اور لارنس گارڈن دیکھنے جاۓ گی۔ کسی نے اسے بتایا تھا کہ لاہور کا عجائب گھر اور مشہور بازار انار کلی لاہور آنے والوں کی توجہ کا مرکز ہوتے ہیں۔ جیسے جیسے انکی دوڑتی ٹرین کا لاہور سے فاصلہ سمٹتا جا رہا تھا، اسکا دل بلیوں اچھل رہا تھا۔ مگر جونہی اس کی ٹرین لاہور اسٹیشن پہنچی اور وہ اے سی پارلرسے باہر پلیٹ فارم پر اتری، اسے ایسا لگا جیسے وہ ٹرین سے نیچے اترکرکسی اندھیرے کنویں میں جا گری ہو۔ بجلی کی لوڈ شیڈنگ تھی جس نے اندھیرے اور شدید دھند کو مزید گہرا کر دیا تھا۔ دوہری تاریکی میں اس کی بینائی نے اسکا ساتھ چھوڑ دیا تھا۔ اطراف کا منظر اس طرح دھندلا گیا تھا کہ اس کے بابا، مما اور بھیا کی شکلیں صاف دکھائی نہیں دے رہی تھیں۔ شہزادی کے لئے یہ صورت حال باالکل نئی تھی۔ اس کو ٹھنڈ بہت لگ رہی تھی۔ بھوک الگ اپنا مژدہ سنا رہی تھی۔ جیسے ہی وہ اسٹیشن سے باہر آئی، اس کا دل گھبرا نے لگا۔ اسکا دل چاہا کہ وہ یہیں سے واپس لوٹ جأۓ۔ مگر وہ کیسے سب کو چھوڑ کر واپس جآ سکتی تھی۔ اس نے اچانک اپنی مما کا بازو زور سے یوں تھام لیا، جیسے وہ نیچے گرنے سے بچنا چاہ رہی ہو۔ ” کیا ہوا شاذی، کیا تمہیں چکر آرہے ہیں؟”. ” نہیں مما۔۔۔ میرا دل ڈوبا جا رہا ہے”. اسکے بابا نے جیب سے ٹوتھ پک کے ڈبیا نکالی اور اس میں سے ایک ٹوتھ پک نکال کر شازیہ کو پکڑا دی۔ “یہ کیا ہے؟” شاذی نے پوچھا۔ ” یہ تنکا ہے، اسے دل کے قریب لے جاؤ اس سے تمہارا دل ڈوبے گا نہیں”. وہ کیسے؟
شازی نے حیران ہو کر پوچھا؟ بیٹے ڈوبتے کو تنکے کا سہارا ہوتا ہے اس لئے یہ تنکا تمہارے دل کو ڈوبنے سے بچا لے گا۔ شازی جو کچھ دیر پہلے گھبرائی، سہمی سردی سے کانپ رہی تھی کھل کھلا کر ہنس پڑی۔ وہ بابا، مما اور بھیا کے ساتھ ٹیکسی میں بیٹھ کر ہنسی خوشی خالہ جان کے گھر کی طرف روانہ ہوگئی۔ وہ سوچنے لگی کہ ہنستے مسکراتے دو میٹھےبول کیسے دل کی پوری کائنات بدل دیتے پیں۔ تعمیری مذاق ڈر خوف اور سراسیمگی کی جگہ ہمت پیدا کر دیتا ہے۔ سکون اور خوشی دیتا ہے۔


