یہ وہ چند پھول ہیں ، جو آج پھر میری میز تک پہنچے ہیں۔ روزانہ صبح سویرے میں ان کی تلاش میں نکلتا ہوں۔ خزاں میں جنگلی اور جھاڑیوں کے پھول میرا استقبال کرتے ہیں۔ میں ہر طرح کا پھول پسند کرتا ہوں، ان کو توڑ لاتا ہوں۔ ان کو ویرانوں یا ہنگام آلود سڑکوں کے کناروں پر گلنے سڑنے کے لیے چھوڑ نہیں آتا۔ گھر لے آتا ہوں اور اپنی میز پر دن بھر ایک محبوب کی طرح پڑا رہنے دیتا ہوں۔مرجھانا تو انھوں نے شاخ پر بھی ہے، کیوں نہ میری میز پر میرے سامنے رہیں۔ میری یہ عادت گذشتہ تین دہائیوں سے جاری ہے۔ کبھی مہینوں ان سے ملاقات نہیں ہوتی اور کبھی روزانہ ان کا وجود میرے وجود کا حصہ بنتا ہے۔
پھول۔۔۔ اب تو یہ کمرشل سرگرمی بن گئی ہے۔ لوگ پھولوں کو اپنے ذاتی مفادات کے لیے استعمال کرنے لگے ہیں۔ میرے ٹاون میں بھی جگہ جگہ پھول لگے ہیں ۔ کچھ جگہیں تو ایسی ہیں جہاں پھول تو کیا سبزہ بھی اچھا نہیں لگتا مگر وہاں پھول ہیں۔ اس لیے کہ سفاک اور لالچی ٹاون انتظامیہ بس حکم دیتی ہے اور مالی جُت جاتے ہیں۔ نرسریوں سے پھولوں کی خریداری ہوتی اور کیاریاں سج جاتی ہیں۔ یہ ٹاونوں میں برلب راہ سجے پھول کمرشل سرگرمی کے سوا کچھ نہیں۔
ہمارے بچپن میں سکولوں میں کیاریوں کے آگے ہی خوبصورت انداز میں لکھا ہوتا تھا کہ ’’پھول توڑنا منع ہے۔‘‘ باغوں میں، پارکوں میں سب سے نمایاں بورڈز دکھائی دیتے تھے کہ پھول توڑنا منع ہے مگر سچی بات ہے کہ اب کوئی پھول نہیں توڑتا۔ نفسا نفسی کا دور ہے ، بھوک ہے۔، لالچ ہے، دھوکے اور ایک دوسرے کو فتح کرنے کا زمانہ ہے، بھلا ایسے میں پھولوں کا کوئی کیا کرے گا۔ میں نے شعوری طور پر نوٹ کیا ہے کہ اب کیاریوں سے پھول توڑنے کا رواج ختم ہو گیا ہے ۔ پھول کھلے ہیں تو کھلے رہیں ، ہم کیا کریں۔ اب کیاریوں پر پھول توڑنے سے منع کرنے کی ہدایات بھی کہیں کہیں دکھائی دیتی ہیں۔
پھولوں کا سب سے بھیانک استعمال ’’بُکے‘‘ کی شکل میں سامنے آیا۔ پھولوں کو غلیظ مقاصد کے لیے استعمال کیا جانے لگا ہے۔ اسے سٹیٹس سمبل کے طور پر پیش کیا جانے لگا ہے۔ پھول دیتے ہوئے لالچ، مفاد اور غرض نے اولیت اختیار کر لی ہے۔کام نکلوانا، تعلق بنانا اور سماجی رسومات کے خود غرض روایات کو پھولوں سے بھرنے کی کوشش کی جا نے لگی ہے۔ آپ کو مزے دار بات بتاتا جاوں۔ گذشتہ مہینے میرے ایک عزیز دوست کے لیے ایک تقریب کا انعقاد کیا گیا ۔ میں دوست کے لیے خوبصورت پھولوں کی تلاش میں نکل پڑا۔ ایف ٹین اسلام آباد کی مارکیٹ میں پھولوں کے پاس گھومنے لگا۔ میں بنے بنائے ’’بُکے‘‘ نہیں لینا چاہتا تھا۔ سو فیصلہ ہوا کہ خود انتخاب کروں گا اور چُن چُن کے پھولوں کو ایک جگہ جمع کرواوں گا۔ (ویسے پھول سب ہی اچھے ہوتے ہیں، پھولوں سے زیادہ ان کے رنگ ان کا دیدہ زیب لباس ہوتے ہیں) بالاخر میں پھول لے کر تقریب میں پہنچا تو انتظامیہ نے پھولوں کے ایک ڈھیر میں ، میرے پھولوں کو بھی لگا دیا۔ میں ساری تقریب اس کوشش میں رہا کہ کسی طرح اس بے ہنگم ڈھیر سے اپنے پھولوں تک پہنچ پاوں اور جب پھول دینے کا سلسلہ شروع ہو تو میں فوراً وہاں پہنچ کے دوست کو اپنے چنیدہ پھول پیش کر سکوں۔ مگر جونہی پھولوں کا کمرشل بازار سجا۔ یقین کریں کہ انتظامیہ پیچھے سے جو ’’بُکے‘‘ ہاتھ میں آتا تصویر والے کو تھماتے اور یہ جا وہ جا ۔ چند ہی بُکے تھے جو ہر ہاتھ میں بار بار آئے۔ کس کا بُکے کس کے ہاتھ میں آیا کسی کو کچھ علم نہیں تھا۔ بس آتے ہوئے لوگوں نے دیکھ لیا کہ کچھ پھول لایا تھا۔ ان لوگوں نے بھی تصویر کے لیے مہمان کو پھول پیش کر دئے جو پھول لائے ہی نہیں تھے۔ ستم ظریفی کی انتہا یہ کہ اب تو تقاریب میں ایک ہی بُکے رکھ لیا جاتا ہے۔ تصویر بنوائی جاتی اور اگلے مہمان کو وہی بُکے پیش کرنے کو کہہ دیا جاتا ہے۔ یہ بُکے بھی صاحبِ تقریب خود لاتا ہے۔
پھول اب کاروبار بن چکے ہیں۔ مفاد، لالچ اور خود غرض احساسات کی نمائندگی کر رہے ہیں۔
میں آج پھر ان پھولوں کو توڑ لایا ہوں۔ اس سے پہلے کہ یہ جنگلوں میں، سڑک کنارے کیارہوں میں اپنے اصل دیکھنے والوں کو تلاش کرتے کرتے ٹہنیوں پر مر جائیں۔


