عارضی جنگ بندی ، مذاکرات اسلام آباد میں/حیدر جاوید سید

خلیج میں پھیلتی جنگ کی وجہ سے جس طرح امن عالم اور کمزور معیشتوں والے ممالک کے لئے خطرات بڑھتے جا رہے ہیں اس پر ہر کس وناکس کی پریشانی بجا ہے پاکستان ترکیہ اور مصر کے ساتھ ملکر جنگ کے آغاز سے ہی قیام امن کے لئے کوشاں رہا اسی طرح یہ بھی حقیقت ہے کہ گزشتہ 39 دنوں کی طرح منگل کا 40 واں دن ( یہ سطور بدھ کی دوپہر میں لکھی جارہی ہیں ) بھی اہل ایران کیلئے سخت آزمائش کا دن رہا
امریکہ اور اسرائیل نے سوموار اور منگل کو ایرانی تعلیمی اداروں شاہراہوں پلوں ریلوے تنصیبات اور تیل کے ذخائر والے ایرانی جزیرے خاگ پر قیامت ڈھادی ایرانی شہر کرج اور فردیس میں بجلی کا نظام درہم برہم ہوگیا ایران نے بھی ان دودنوں میں خطے میں امریکی مفادات پر تواتر کے ساتھ حملے جاری رکھے گزشتہ روز ایران نے سعودی عرب میں پیٹرو کیمیکل اور صنعتی تنصیبات کو نشانہ بنایا ان حملوں پر ایران کا موقف ہے کہ اس نے امریکی مفادات کو نشانہ بنایا ہے جبکہ سعودی عرب نے انہیں اپنی قومی سلامتی پر حملہ قرار دیا
منگل کو اسلام آباد میں منعقدہ 274 ویں کور کمانڈرز کانفرنس نے سعودی عرب کی صنعتی تنصیبات پر حملوں پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے ان کی مذمت کی دوسری جانب امریکی صدر ٹرمپ کے اس سفاکانہ بیان کے بعد جسمیں انہوں نے کہا تھا
” ایرانی تہذیب کو ہمیشہ کیلئے مٹا دینگے ” عالم انسانیت میں تشویش کی لہر دوڑ گئی
سفاکیت سے عبارت ٹرمپ کے اس بیان کے بعد پاکستان نے جنگ بندی کیلئے جاری کوششوں کو مزید تیز کرتے ہوئے امریکہ اور ایرانی قیادت سے بات چیت کی اسی دوران نائب وزیر اعظم اور وزیرخارجہ اسحٰق ڈار نے کہا کہ ایران اور امریکہ مذاکرات کے لئے بیٹھنے کو تیار تھے لیکن اسرائیل نے ایران پر مزید حملے کرکے معاملات کو خراب کیا ایران جنگ کے حوالے سے تادم تحریر اطلاعات یہ ہیں کہ جنگ بندی کیلئے پاکستان کی کوششیں بار آور ثابت ہوئی ہیں امریکہ اور اسرائیل کی ایران پر مسلط جنگ فی الوقت روک دی گئی ہے جنگ بندی کا اطلاق لبنان میں جاری اسرائیلی حملوں پر بھی ہوگا
بتایا جارہا ہے کہ پاکستان کی درخواست پر ہوئی عارضی جنگ بندی کو ایران کے رہبر اعلیٰ سید مجتبیٰ خامنہ ای کی تائید حاصل ہے ایران نے مستقل جنگ بندی کیلئے اپنی 10 تجاویز تحریری طور پر پاکستان کے حوالے کرنے کے ساتھ آبنائے ہرمز کو بھی 2 ہفتے کیلئے کھولنے کا اعلان کیا ہے
امرواقع یہ ہے کہ امن عالم اور انسانیت کے لئے تباہی کے بڑھتے ہوئے خطرات کے خاتمے اور ایران پر مسلط جنگ کو بند کرانے کیلئے پاکستان کی کوششوں کی ہر کس و ناکس تعریف کررہا ہے ایرانی وزیر خارجہ عراقچی نے نہ صرف پاکستانی کوششوں کو سراہا بلکہ انہوں نے عندیہ دیا کہ اگر امریکہ اور اسرائیل حملے بند کردیں تو ایران بھی خطے میں امریکی مفادات پر حملے روک دے گا
جنگ بندی کے حوالے سے تازہ ترین اطلاع یہ ہے کہ ایران اور امریکہ کے درمیان مذاکرات 10 اپریل بروز جمعہ اسلام آباد میں ہوں گے پاکستان کی جانب سے فریقین کو باضابطہ دعوت دیدی گئی ہے ایران پر پچھلے 40 دن سے مسلط جنگ سے جہاں ایران کو بے پناہ جانی و مالی نقصان ہوا وہیں اس جنگ کے دوران ایران کی حکمت عملی نے دنیا کو معاشی طور پر ہلاکر رکھ دیا امریکی صدر کے دعوے اور دھمکیاں اپنی جگہ مگر منگل کو سلامتی کونسل میں آبنائے ہرمز کھلوانے کے لئے بحرین کی قرارداد کو چین اور روس کی جانب سے ویٹو کیئے جانے نے امریکہ صدر ٹرمپ کی بدمستی کو بڑی حد تک لگام ڈالنے میں کردار ادا کیا
ہماری دانست میں دوہفتے کی عارضی جنگ بندی پر آمادگی اور اسلام آباد میں مذاکرات کی خبروں نے بین الاقوامی برادری میں پاکستان کے سیاسی اور خارجی کردار کی اہمیت دوچند ہوئی ہے ان کامیابیوں ایک پڑوسی ملک کی حکمران قیادت اور میڈیا میں جس طرح پٹ سیاپا جاری ہے اس سے اہل پاکستان کو یہ اطمینان ہورہا ہے کہ پاکستان کی سفارتی و سیاسی محاذوں کامیابی کی خبریں حقیقت پر مبنی ہیں
یاد رہے کہ بدھ کی دوپہر سعودی عرب کی وزارت خارجہ کی جانب سے جاری کئے جانے والے بیان میں ایران جنگ بند کرانے کیلئے پاکستانی کوششوں کی نہ صرف تعریف کی گئی بلکہ خطے اور امن عالم کے لئے بڑی کامیابی قرار دیا گیا
ہم اسے بدقسمتی ہی کہہ سکتے ہیں کہ ہمارے ہاں ایک طبقہ ایسا ہے جو داخلی و خارجی محاذوں پر اپنے ہی ملک کی رسوائی کا سامان کرنے کو اپنی مبینہ اینٹی اسٹیبلشمنٹی کا جُز اول سمجھتا ہے پاک بھارت جنگ اور افغانستان سے جاری دراندازی ہر دو امور پر اس طبقے کی سوچ پاکستان دشمنی سے عبارت رہی اب ایران اور امریکہ میں عارضی جنگ بندی کو لے کر بھی یہی طبقہ دیواروں میں سر مارتا اور اپنی بوٹیاں نوچتا دیکھائی دے رہا
ہماری رائے میں موجودہ نظام کے سیاسی چہروں اور سیکورٹی اسٹیبلشمنٹ سے اختلاف یا ہردو پر تنقید کفر ہے نہ ملک دشمنی البتہ اپنے ملک کو عالمی برادری میں ملی عزت پر رونا دھونا کم ظرفی ہے

اپنا تبصرہ لکھیں