شمس الرحمن فاروقی کی کتاب”اردو کا ابتدائی زمانہ:ادبی تہذیب و تاریخ کے پہلو”کی تلخیص/یحییٰ تاثیر

شمس الرحمن فاروقی کی یہ کتاب سات ابواب پر مشتمل ہے جس میں انھوں نے اردو (ہندوی، ہندی، دہلوی، ریختہ، دکنی وغيرہ) کی تاریخ ، تشکیل اور ارتقا کے حوالے سے نظریات بیان کیے ہیں –

بابِ اوّل: تاریخ، عقیدہ، اور سیاست:

یہ باب اردو زبان کی تاریخ کے بنیادی مغالطوں کو توڑنے سے آغاز کرتا ہے- فاروقی اس تصور کو رد کرتے ہیں کہ “قدیم اردو” کوئی مستقل تاریخی حقیقت ہے- ان کے نزدیک زبان پہلے سے موجود تھی مگر “اردو” کا نام بعد میں سامنے آیا- وہ واضح کرتے ہیں کہ ہندوی، ہندی، دہلوی اور ریختہ دراصل ایک ہی لسانی سلسلے کی مختلف صورتیں تھیں-
اسی تناظر میں وہ نوآبادیاتی دور کی لسانی سیاست کو بے نقاب کرتے ہیں، جب انگریزوں نے زبان کو مذہبی بنیادوں پر تقسیم کر کے ہندی اور اردو کو دو الگ شناختوں میں بدل دیا۔ اس عمل نے ایک مشترکہ تہذیب کو منقسم کر دیا- اس طرح زبان کی فطری تاریخ پر سیاسی اور نظریاتی قوتیں غالب آ گئیں، اور ایک ایسا بیانیہ تشکیل پایا جس نے حقیقت کو پسِ پشت ڈال دیا-
یہاں فاروقی ایک اہم فکری انکشاف کرتے ہیں کہ “اردو” دراصل ایک نام ہے، جب کہ اصل حقیقت زبان کا تسلسل ہے- اس زاویے سے دیکھیں تو زبان اپنی فطرت میں غیر مذہبی اور مشترکہ تہذیبی ورثہ ہے-

بابِ دوم: تاریخ کی تعمیر نو، تہذیب کی تشکیل نو:

پہلے باب میں پیش کیے گئے مقدمے کو آگے بڑھاتے ہوئے فاروقی اس باب میں یہ واضح کرتے ہیں کہ ہندی اور اردو کی موجودہ تقسیم کسی فطری لسانی ارتقا کا نتیجہ نہیں بل کہ ایک شعوری “تعمیر نو” ہے- ایک مشترکہ زبان کو سیاسی، مذہبی اور تہذیبی مفادات کے تحت دو الگ صورتوں میں تقسیم کیا گیا-
فورٹ ولیم کالج، قوم پرستانہ تحریکیں اور مختلف ادبی رجحانات اس تقسیم کو مضبوط کرنے میں شریک رہے- نتیجتاً ایک وسیع اور ہمہ گیر تہذیبی روایت دو حصوں میں بٹ گئی۔ اس عمل میں نہ صرف زبان بل کہ اس کے ساتھ وابستہ ادبی ورثہ بھی متاثر ہوا-
فاروقی اس پورے منظرنامے کو اس طرح پیش کرتے ہیں کہ زبان کا مسئلہ دراصل تہذیبی اقتدار کا مسئلہ بن جاتا ہے- یوں تاریخ کو محض بیان نہیں کیا گیا بل کہ اسے تشکیل دینے والی قوتوں کو بھی بے نقاب کیا گیا ہے-

بابِ سوم: شروعات، وقفے، قیاسات:

یہ باب اردو کی ابتدائی تاریخ کے ان خاموش وقفوں پر روشنی ڈالتا ہے جو بہ ظاہر خلا محسوس ہوتے ہیں- مسعود سعد سلمان اور امیر خسرو کے ہاں ہندوی(اردو،ہندی) کے آثار ملتے ہیں، مگر اس کے بعد ایک طویل عرصہ ایسا ہے جہاں کوئی نمایاں ادبی تسلسل نظر نہیں آتا-
فاروقی اس خلا کو محض عدم موجودگی نہیں بل کہ ایک معنی خیز پہلو کے طور پر دیکھتے ہیں- ان کے مطابق ہندوی(اردو ،ہندی) زبان تو موجود تھی، مگر اسے ادبی وقعت حاصل نہ تھی، اس لیے اس کا ادب محفوظ نہیں رکھا گیا- بعد ازاں صوفیوں نے اسے عوامی اور ادبی اظہار کا ذریعہ بنایا، جس سے اس کی ادبی حیثیت مستحکم ہوئی-
یہاں ایک اہم بات یہ سامنے آتی ہے کہ زبان کا وجود اور اس کی ادبی روایت دو الگ حقیقتیں ہیں- فاروقی قیاس کو تحقیقی طریقہ کار کے طور پر استعمال کرتے ہوئے اس خاموشی کو بھی تاریخ کا حصہ بنا دیتے ہیں-

بابِ چہارم: نظری تنقید، اور شعریات کا طلوع:

اس باب میں اردو شعریات کی ابتدا کو ایک نئے زاویے سے دیکھا گیا ہے- فاروقی امیر خسرو کو اس روایت کا اولین نظریہ ساز قرار دیتے ہیں، جن کے ہاں روانی، ایہام اور کثیر المعنویت جیسے اصول نمایاں ہیں- اس کتاب میں خسرو پر کافی توجہ سے روشنی ڈالی گئی ہے –
خسرو کے بعد دکنی اور صوفی شعرا نے ان اصولوں کو عملی صورت دی، اور یوں شعریات ایک باقاعدہ فکری نظام کی شکل اختیار کرنے لگی- اس نظام میں شعر محض جذبات کا اظہار نہیں بل کہ علم، حکمت اور تجربے کا جامع مظہر بن جاتا ہے-
فاروقی اس مقام پر زبان کو محض ذریعہ نہیں بلکہ معنی پیدا کرنے کا سرچشمہ قرار دیتے ہیں، اور قاری کو بھی تخلیقی عمل میں شریک کرتے ہیں- یوں اردو شعریات ایک زندہ اور متحرک فکری نظام کے طور پر سامنے آتی ہے، جو مختلف تہذیبی اثرات کے امتزاج سے تشکیل پاتی ہے-
بابِ پنجم: وقفے، اور پھر حقیقی آغاز، شمال میں:

یہ باب اردو ادب کے ارتقائی سفر کو ایک تدریجی مگر غیر مسلسل عمل کے طور پر پیش کرتا ہے- ابتدا میں کچھ منتشر آثار ملتے ہیں، پھر صوفیوں کے ذریعے دکن اور گجرات میں زبان کو فروغ حاصل ہوتا ہے، اور آخرکار اٹھارویں صدی میں دہلی میں اس کا حقیقی عروج سامنے آتا ہے-
فارسی کی بالادستی کے باعث شمالی ہند میں اردو کی ترقی میں تاخیر ہوئی، مگر یہی فارسی بعد میں اس زبان کی تہذیبی تشکیل میں معاون بھی ثابت ہوئی۔ اس دوران ریختہ کی صورت میں زبان نے ایک نئی شکل اختیار کی، جس میں مختلف لسانی عناصر کا امتزاج تھا-
یہ پورا عمل اس بات کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ زبان کا ارتقا سیدھی لکیر میں نہیں بل کہ مختلف مراحل، وقفوں اور میل جول کے ذریعے ہوتا ہے۔ یوں اردو ایک جغرافیائی اور تہذیبی سفر کا نتیجہ بن کر سامنے آتی ہے-

بابِ ششم: ولی نام کا ایک شخص:

اس باب میں فاروقی ولی دکنی کی شخصیت اور ان کے ادبی مقام کی ازسرنو تعین کرتے ہیں- وہ روایتی بیانیے کو رد کرتے ہوئے یہ ثابت کرتے ہیں کہ ولی کسی خارجی اثر کے محتاج نہیں تھے بل کہ خود ایک مکمل اور باکمال شاعر تھے-
شاہ گلشن سے متعلق مشہور قصے کو وہ ایک بعد کی اختراع قرار دیتے ہیں، جس کا مقصد ولی کے کارنامے کو کم کرنا تھا- حقیقت یہ ہے کہ ولی نے اپنی تخلیقی قوت سے اردو کو اعلیٰ شاعری کی زبان بنایا اور اس کی شعریات کو ایک مضبوط بنیاد فراہم کی-
یہاں فاروقی دکن کے کردار کو اجاگر کرتے ہوئے دہلی مرکزیت کو چیلنج کرتے ہیں اور یہ واضح کرتے ہیں کہ اردو کی تشکیل میں مختلف علاقوں کا مساوی حصہ رہا ہے- ولی کو وہ صرف شاعر نہیں بلکہ زبان کو تشکیل دینے والی ایک مرکزی شخصیت کے طور پر پیش کرتے ہیں- فاروقی نے ولی دکنی کو گویا Language maker قرار دیا ہے-

بابِ ہفتم: نئے زمانے، نئی ادبی تہذیب:

یہ باب پوری کتاب کا نقطۂ عروج ہے، جس میں اردو کو محض زبان کے طور پر نہیں بل کہ ایک مکمل ادبی تہذیب کے طور پر دِکھا گیا ہے- فارسی کی بالادستی کے باوجود اردو نے آہستہ آہستہ اپنا مقام بنایا اور ایک نئے ادبی ماحول کی تشکیل کی-
استاد-شاگرد نظام، مشاعرے، اصلاحِ زبان، اور ذوق کی تشکیل جیسے عناصر نے مل کر اردو کو ایک منظم ادبی روایت میں بدل دیا- اس عمل میں زبان کے ساتھ ساتھ ایک مخصوص تہذیبی شعور بھی پیدا ہوا، جس نے اردو کو معاشرتی سطح پر وقار عطا کیا-
فاروقی اس مرحلے پر یہ دکھاتے ہیں کہ زبان کی اصل تکمیل اس وقت ہوتی ہے جب اس کے ساتھ ادارے، اقدار اور جمالیاتی معیار بھی تشکیل پائیں- یوں اردو ایک مکمل تہذیبی نظام کے طور پر سامنے آتی ہے، جس میں تخلیق، روایت اور سماج تینوں ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں-

حاصلِ کلام: یہ پوری کتاب اردو کی تاریخ کو محض زمانی ترتیب میں نہیں بل کہ فکری، تہذیبی اور تنقیدی سطحوں پر نئے سرے سے مرتب کرتی ہے- اس میں زبان کو ایک زندہ عمل کے طور پر دِکھا گیا ہے، جِسے سیاست نے تقسیم کیا مگر ادب نے ہمیشہ جوڑے رکھا۔

اپنا تبصرہ لکھیں