تھوڑی پابندی، تھوڑی آزادی/حامد یزدانی

جیسے ہی میں اپنا دفتر کا لیپ ٹاپ آن کرتا ہوں تو سامنے چمکتی سولہ انچ ہائی ریزولیوشن سکرین پر جوڈی لارسن اپنے سیدھے سنہری بالوں اور وی نیک شرٹ کے گلابی رنگ سے مماثل لپ سٹک ہونٹوں پر سجائے اپنی غزال آنکھوں سے شاید مجھے ہی دیکھ رہی ہے۔ سکرین کے کونے سے جھانکتے ٹیولپ کے پانچوں پھول بھی گلابی رنگ کے ہیں۔ نگاہوں کے سامنے بہار رقصاں ہے۔ کوئی یہ بھی کہہ سکتا ہے کہ ویب پر پیش کردہ اس کے سیمینار یا ویبینار موضوعات کی اہمیت سے زیادہ اس کی شخصیت کی دل کشی کے سبب پیشہ ورانہ کارکنوں میں مقبول ہیں۔ کوئی کہتا ہے تو کہتا رہے ۔۔۔ مجھے کیا۔ کون جانے اِس وقت کمپیوٹر اور لیپ ٹاپ سکرین سے چپکی ہر نگاہ شاید اسی خوش گمانی کے حصار میں ہو کہ وہ آنکھیں اسے ہی دیکھ رہی ہیں۔ وہ آئینہ آئینہ شفاف لہجہ اسی سے مخاطب ہے۔ ایک ایک جملہ نپا تُلا، ہر لفظ چُنا ہوا، آواز کا اتار چڑھاؤ، تاریخ و ادب اور فنونِ لطیفہ کے دل چسپ حوالوں سے لہکتی حالاتِ حاضرہ پر اُس کی گفت گو جیسے مجھے کسی اور ہی منظر نامے میں لیے جا رہی ہے حال آں کہ موضوع بہت تکلیف دہ ہے ’’کووڈ 19 کی عالمی وبا کے اثرات‘‘ مگر اس وقت یہ تکلیف دہ موضوع بھی مجھے عجیب راحت دے رہا ہے۔ جوڈی کے لبوں سے آزاد ہونے والے الفاظ نیٹ کا طویل برقی سفر طے کرتے ہوئے چند سیکنڈ بعد مجھ تک پہنچ پاتے ہیں جب کہ اُس کی پلکیں جھپکنے کی صدا پلک جھپکنے سے پہلے ہی منتقل ہو رہی ہے۔ ہے نا عجیب بات!
وہ کہہ رہی ہے: ’’ہماری زندگی یک سر بدل کر رہ گئی ہے۔ نہ پہلے سے طور طریقے رہے نہ انداز۔ اس نے تو سب کچھ تلپٹ کر کے رکھ دیا ہے۔ ہمارے باہر بھی اور ہمارے اندر بھی۔ آپ کو یاد ہو گا کہ اس کے آنے سے پہلے منظر نامہ ہی کچھ اور تھا۔ ذاتی معمولات اپنی آرام دہ ڈگر پر اور پیشہ ورانہ فتوحات ایک مثالی عروج پر تھیں اور ان ساری مصروفیات کی گہما گہمی میں کِسے اتنی فرصت تھی کہ زندگی کی رفتار اور سمت اور نئے امکانات کے بارے میں سوچتا پھرے۔ گویا دوڑ میں شریک سارے کھلاڑی سر پٹ بھاگ رہے تھے۔ مگر ۔۔۔ بس بھاگ رہے تھے۔ ٹھٹھکے وہ تب جب سامنے اچانک ایک رکاوٹ آن کھڑی ہوئی تھی۔‘‘

رکاوٹ کا ذکر کر کے جوڈی ایک مختصر سا وقفہ لیتی ہے جیسے دوڑ میں شریک کوئی ایتھلیٹ سانس برابر کرنے کو لمحہ بھر رکے ۔۔۔ اور پھر اس کی آواز پھر سے زقند بھرتی ہے:

’’یہ کیا! یہ رکاوٹ تو اس دوڑ کے معمول کا حصہ نہ تھی۔ کسی بھی چکر میں سامنے نہیں آئی تھی۔ اب یوں اچانک کیوں کر ابھر آئی! اب کیا کریں؟
ایک سوچ سرسرائی۔
ہم دوڑ کیوں رہے ہیں؟
دوسری سوچ بھنبھنائی۔
اس دوڑ کی منزل کیا ہے؟
ایک سوال ابھرا۔
آخر ہم اِسی سمت کیوں دوڑے چلے جا رہے ہیں؟
ایک اور سوال۔
اس دوڑ کے قواعد و ضوابط کیا ہیں اور کس نے بنائے ہیں؟
ایک اور الجھن ۔۔۔
اور پھر یہ ہلکی ہلکی آوازیں، دھیمے دھیمے سُر جیسے چائکوفسکی کی شاہ کار سمفنی اوورچر کے بلند آہنگ کا روپ دھارتے گئے اور کھیل کا میدان میدانِ کار زار لگنے لگا مگر وہاں نہ کہیں نپولین کی فرانسیسی افواج تھیں اور نہ زارِ روس کے دفاعی لشکر تو پسپائی کیسی اور فتح کس کی! ۔۔۔ مگر یہاں جس نا دیدہ دشمن کا سامنا تھا اس کی چال سے بھی کوئی پورے طور پر آگاہ نہ تھا۔ ہو بھی کیسے سکتا تھا اُس نے تو بس اچانک ہی سب کو آن لیا تھا۔ کووِڈ 19 کی رکاوٹ بھی بس دھم سے سامنے راہ میں آ گری اور سدِ راہ بن گئی۔ سر پٹ دوڑتے دوڑتے ایک دم سے سب رُک گئے تھے، لڑکھڑاتے ہوئے، گرتے پڑتے، خود کو سنبھالتے، دوسروں کو بچاتے ۔۔۔ توازن قائم رکھنے کی کوشش کرتے ہوئے۔ اس کی اذیت اور کوفت سے قطعِ نظر، سوچیے تو ۔۔۔ ہمیں ٹھہرنے کا، سانس برابر کرنے کا اور کچھ سوچنے کا وقفہ میسر آ گیا ہے۔
غور کرنے کا موقع۔ خود پر، اپنی زندگی پر غور کرنے کا اور خود کو جانچنے کا، خود سے اور اپنے گرد و پیش سے کچھ سوال کرنے کا اتفاقی موقع ۔۔۔‘‘

وہ کہہ رہی ہے۔

’’میرے نزدیک اس لمحے کا، اس موڑ کا، موت بانٹنے والی اس زندہ داستان کا عنوان ہے ’’اجازت‘‘۔ جی نہیں، میں مادر پدر آزادی کی بات نہیں کر رہی، نہ ہی اصول و ضابطہ سے انحراف یا ذمہ داریوں سے فرار کا پرچار کر رہی ہوں۔ میرے خیال میں رکاوٹ کا یہ لمحہ، یہ تاریخی دھچکا مجھے کہہ رہا ہے کہ اس غیر معمولی صورتِ حال نے میرے لیے اِس اجازت اور اختیار کا جواز اور وقت فراہم کر دیا ہے کہ جس کے تحت میں از سرِ نو سوچ سکوں چیزوں کو، اپنے کاموں کو مختلف ڈھنگ سے کرنے کے بارے میں۔ بس یہ اجازت اور اختیار ہے ۔۔۔‘‘

ویبینار کے پہلے دس منٹ پیش کار خاتون جوڈی لارسن نے جہاں خود کو کسی وقفہ کی اجازت نہیں دی وہاں کسی دوسرے کو بھی بات کرنے کا اختیار نہیں دیا۔ لگتا تھا جیسے وہ تن تنہا سر پٹ دوڑ رہی ہے، سنیما سکوپ فلم کے ایک ایسے منظر میں جس کے باقی سبھی کرداروں کو منجمد اور خاموش کر دیا گیا ہو۔ صاف لگ رہا تھا کہ وہ تاریخی فرانسیسی پیش رفت کو ایک قدم بھی آگے نہ بڑھنے دے گی۔ اس کا روس شکست نہیں کھا سکتا۔ چائکوفسکی کی سمفنی چار جولائی کے امریکی انقلاب کے جشن پر بھی چھا کر رہے گی۔ بوسٹن کا گہرا آسمان رنگا رنگ آتش بازی سے چمک اٹھے گا اور فضا توپوں کی گھن گرج اور کلیسا کی گھنٹیوں کی پُر شور آمیزش سے گونج اٹھے گی۔ کیا ان کے درمیان میں کہیں فرانس کے قومی ترانے کے بول بھی لہکیں گے؟

مجھے معلوم نہیں۔

میری طرح شاید دوسرے شرکا بھی محسوس کر رہے ہوں گے کہ آج اس جوڈی کو کوئی نہیں روک سکتا۔ وہ اپنا مقصد، اپنی منزل پا کر رہے گی اور اس کے لیے وہ خوب تیار بلکہ لیس ہو کر آئی ہے۔ گھریلو دفتروں میں قید کمپوٹرز، لیپ ٹاپس اور فونز کی چھوٹی بڑی سکرینوں پر اِس وقت صرف اسی کی تصویر دکھائی دے رہی ہے۔ وڈیو کا اختیار ویبینار میں شریک کسی اور فرد کو حاصل نہیں۔ کوئی اور اس وقت بول بھی نہیں سکتا۔ ملک کے مختلف حصوں میں نظریں اور کان جمائے باقی سب محض ’لِسننگ موڈ‘ میں ہیں۔ بس سُن سکتے ہیں۔ جوڈی ان کی آواز کو رہائی کا اذن ضرور دے گی۔ انھیں بولنے کی اجازت دے گی۔ انھیں سوال پوچھنے کا اختیار دے گی مگر اپنی بات مکمل کر کے ۔۔۔۔ اعلانِ فتح کے بعد اپنی کامیابی کا ورچوئل پرچم لہرا کر ۔۔۔ مناسب وقت پر۔

اچھا نکتہ نکالا ہے بہر حال اس خاتون پیش کار نے ۔۔۔

میں سوچتا ہوں ۔۔۔

کچھ مختلف ہے یا شاید بہت کچھ ۔۔۔ اس عالمی وبا کے باعث بدلے ہوئے ماحول نے ٹیکنالوجی کے زیادہ سے زیادہ استعمال کی ضرورت کو واضح کردیا ہے۔ زندگی ورچوئل ہو گئی ہے۔ سبھی دھڑکنیں آن لائن۔ ڈاکٹر سے مشورہ ہو یا پھر کالج کی پڑھائی ۔۔۔ سودے سلف کی خریداری یا مقدس کتاب کی با تجوید آموزش ۔۔۔ سب آن لائن، سب فاصلاتی۔ ایسے میں دفتری میٹنگز زُوم رنگ ہو گئی ہیں اور معلوماتی اور تربیتی سیمینارز ویبینار میں ڈھل گئے ہیں۔

ہمارا دفتر بھی ابھی ابھی تو کُھلا ہے اور وہ بھی جُزوی طور پر۔ ایک دن دفتر میں کام کرتے ہیں اور ایک دن گھر سے۔ دفتر میں اپنے کمرے سے نکلتے ہوئے ماسک اب بھی پہنتا پڑتا ہے۔ تھوڑی پابندی، تھوڑی آزادی۔

جوڈی اور اس جیسے کتنے ہی ماہرین ہیں جو جسمانی دُوری کی احتیاط کو ملحوظ رکھتے ہوئے اپنے تئیں وبا کے چیلنج کو نہ صرف قبول کر رہے ہیں بلکہ اَن دیکھے دشمن کے جارحانہ عزائم کو پے در پے شکست دے رہے ہیں۔ بدنی دُوری اور سماجی قربت کی اہمیت کو اجاگر کر رہے ہیں اور زندگی کی پیش رفت کو رُکنے نہیں دے رہے۔
کہتے ہیں طبی محاذ پر اور سماجی سرحدوں پر انسانی ہمت اور فکر نے کچھ نہ کچھ جھنڈے گاڑ ہی دیے ہیں ۔۔۔
کیا واقعی ۔۔۔؟

میں ابھی تک سوچ رہا ہوں ۔۔۔

اور ادھر نگاہوں کے سامنے چمکتی سولہ انچ، ہائی ریزولیوشن سکرین پر جوڈی لارسن قدم قدم، عنواں عنواں اپنی کام یابی کے زبانی پرچم لہرا رہی ہے۔ اُس کی صورت سکرین سے تبھی ہٹتی ہے جب کوئی معلوماتی سلائیڈ ابھرتی ہے؛ چونکا دینے والے اعداد و شمار کے ساتھ، گرافکس اور تصاویر کے ساتھ۔ کوئی کہہ سکتا ہے کہ جوڈی لارسن کی باتیں تاریخ کے اس اتفاقی بلکہ حادثاتی موقع سے مؤثر طور پر فائدہ اٹھانے اور وقت کے اِس بظاہر ناکارہ سے خطے کو خوش حالی کا ضامن بنانے کی دعوت دے رہی ہیں۔

وہ کہہ رہی ہے:
’’ہمیں اِس غیر معمولی دور میں خود کو وہ کچھ کرنے کی اجازت دینی چاہیے جو پہلے کے عام دنوں میں نہیں کر سکے۔‘‘
وہ کہہ رہی ہے:
’’یہ اختیار ہمیں خود کو ضرور دینا چاہیے کہ ہم پرانی ڈگر سے ذرا ہٹ کر سوچ سکیں ۔۔۔‘‘

وہ کہہ رہی ہے:

مگر میں اب سوچ بھی نہیں رہا ۔۔۔
بس سُن رہا ہوں اور ساٹھ منٹ کے بعد متوقع اُس لمحۂ اختیار کا منتظر ہوں جب سُننے والوں کو اذنِ سخن ملے گا، بات کرنے کی اجازت ملے گی ۔۔۔
میں منتظر ہوں۔
شاید کچھ اور افراد بھی اسی انتظار میں ہوں ۔۔۔
میں جانتا ہوں سوال کرنے والے باری باری سوال کریں گے اور جوڈی بڑے اعتماد اور ترتیب سے ان کے جوابات دے گی لیکن میں کیوں منتظر ہوں؟ مجھے تو کوئی سوال نہیں پوچھنا اُس سے تو پھر کیوں ۔۔۔۔؟

اور پھر وقت کی کمی کی مجبوری آڑے آ جائے گی۔ جلدی جلدی میں بھی وہ سب کا شکریہ ادا کرنا نہیں بھولے گی۔ باقی ماندہ سوالات بھیجنے کے لیے اپنے ای میل ایڈریس والی سلائیڈ کچھ دیر سکرین پر رکھے گی۔
میں جانتا ہوں وہ کہے گی کہ یہ ویبینار جزوی طور پر بعد ازاں دست یاب ہو گا ریکارڈنگ کی صورت میں اور یہ کہ دیگر تربیتی ضرورتوں کے لیے اس کے ادارے سے ضرور رابطہ کیا جائے۔ پھر ایک کلک کی آواز کے ساتھ ویبینار کا سلسلہ منقطع ہو جائے گا۔

میں سکرین پر کُھلی اس ونڈو کو بند کر کے اپنی دفتری ای میل کھولوں گا اور اپنی مینیجر کو لکھوں گا:

سہ پہر کا آداب
ابھی ویبینار سے فارغ ہوا ہوں۔ خوب تھا۔ بہت سی نئی معلومات حاصل ہوئیں۔ جوڈی کا اندازِ پیش کش انتہائی مؤثر تھا۔ اس نے موضوع کے ساتھ خوب انصاف کیا اور تاریخ اور عصرِ حاضر سے کار آمد مثالیں فراہم کر کے اپنے مؤقف کی وضاحت کی۔ بعد میں سوال و جواب کے سیشن میں شرکا کے عمدہ سوالات کے تشفی بخش جواب دیے اور اس ویبینار کی ریکارڈنگ کی دست یابی کا بھی عندیہ دیا۔ مجموعی طور پر یہ ایک بہت مفید ویبینار تھا جسے شعبہ کے دیگر کارکنوں کے لیے بھی تجویز کیا جا سکتا ہے۔
دیگر یہ کہ کام کی ضروری فائلیں آج سہ پہر تک نمٹا لی جائیں گی تاکہ کل سے ڈیٹا انٹری اور سالانہ رپورٹ پر پیش رفت ہو سکے۔
اس ویبینار کی نشان دہی کرکے اور اس میں شرکت کی اجازت دے کر آپ نے پیشہ ورانہ تربیت کا جو موقع مجھے فراہم کیا ہے اس کے لیے پھر سے ممنون ہوں۔
شکریہ اور آداب
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
یہاں میں اپنا نام لکھوں گا اور تھوڑی ہی دیر میں کمپیوٹر پر نئی ای میل کی آمد کی دھیمی سی گھنٹی بجے گی۔ یہ میری مینیجر صاحبہ کی طرف سے جوابی پیغام ہوگا:

ہیلو ڈیئر ۔۔۔
مجھے خوشی ہے کہ آپ نے پیشہ ورانہ تربیت کے اس موقع سے فائدہ اٹھایا اور اسے پسند بھی کیا۔ ہم ہمیشہ کوشش کرتے رہتے ہیں کہ اپنے عملے کو ایسے مواقع فراہم کرتے رہیں جو پیشہ ورانہ زندگی میں ان کے مدد گار ثابت ہوں اور ان کی استعداد میں اضافے کا باعث ہوں۔
امید ہے آپ کا باقی ماندہ دن بھی اچھا گزرے گا۔
مجھے اپنی مصروفیات سے آگاہ رکھنے کا شکریہ۔
مینیجر شعبۂ خدمات
۔۔۔۔۔
اس میں حیرت کی گنجائش نہیں کہ اس بنے بنائے رسمی جواب کا ایک ایک حرف مجھے ازبر ہو چکا ہے۔ پھر بھی میں اسے شروع سے آخر تک پڑھوں گا اور ای میل کے اوپر والے دائیں کونے میں چھپے انگوٹھے والے ایموجی پر کلک کر کے اپنی پسندیدگی کا علامتی اظہار ریکارڈ کرواؤں گا اور اگلے ای میل پیغام پر جانے سے پہلے ایک نظر دائیں طرف پڑے دفتری فون کی سکرین پر ڈالوں گا کہ کہِیں کوئی تازہ پیغام تو میرا منتظر نہیں۔ کتنی کالز مِس ہوئی ہیں؟ کیوں کہ ویبینار کے دوران میں میں نے فون کو خاموش کر رکھا تھا۔
سکرین پر دیکھتے ہوئے میں فون کی گھنٹی کی آواز بڑھا دوں گا۔
نئے پیغامات دکھائی دینے کے باوجود میں فوری انھیں سنوں گا نہیں کیوں کہ پہلے مجھے استقبالیہ پر پوری مستعدی سے ڈٹی جینی کو فون پر آگاہ کرنا ہو گا کہ اب میں فارغ ہوں اور اگر کوئی مجھ سے ملنے آئے تو مجھے اطلاع کر سکتی ہے۔
جینی سے بات ختم کرتے ہی میں فون پر موصول ہونے والے پیغامات سنوں گا اور زرد رنگ کے چوکور چپکنے والے ٹیگز پر فون کرنے والوں کے نام، فون نمبر اور فون کا مقصد لکھتا جاؤں گا تاکہ سب کو باری باری جواب دے سکوں۔ اس کے بعد ایک بار پھر لیپ ٹاپ کی سکرین کی جانب لوٹوں گا۔ ای میل پیغامات کو دیکھوں گا۔

اب مجھے جلدی کرنا ہو گی۔ فون کالز بھی لنچ کے بعد تک مؤخر کرنا ہوں گی کیوں کہ دفتر میں دوپہر کے کھانے کا وقفہ ہونے کو ہے اور اگلے تیس سیکنڈ میں میرے ہم کار ڈیوڈ اور یاسمین شیشے کے شفاف دروازے کے سامنے کھڑے مجھے کمرے سے باہر نکلنے کے اشارے کر رہے ہوں گے۔

ہمیں لنچ کے لیے اُس نئے نئے کُھلے صومالی ریستوران میں جانا ہے جس کے بارے میں یاسمین کا کہنا ہے کہ وہاں کی ڈِش چکن منجِیرا بہت لذیذ ہے۔ وہ ویک اینڈ پر اپنی فیملی کے ساتھ ڈنر کے لیے وہیں گئی تھی اور آج مجھے اور ڈیوڈ کو اس کے ساتھ جانا ہے محض اس کی پسند کی تصدیق کرنے کے لیے۔
لیجیے، دو چہرے نمودار ہو گئے ہیں شیشے کے شفاف دروازے کے اس پار۔
وہ چہرے ہیں یا عکس؟

یہ سوال تو مجھے جوڈی لارسن سے پوچھنا چاہیے تھا کیوں کہ وہی ہے جس کے پاس ہر سوال کا جواب ہوتا ہے لیکن کیا کروں؟ تب میں نے پوچھا نہیں۔
اور اب؟
اب مجھے اختیار حاصل نہیں۔
نہ سوال کا، نہ انکار کا اور نہ تاخیر کا۔
مجھے جانا ہو گا۔
جی، ابھی ۔۔۔ اسی وقت۔

اپنا تبصرہ لکھیں