جھاڑ پھونک کی نفسیات/ندا اسحاق

مجھے آج بھی اچھے سے یاد ہے حالانکہ میں بہت چھوٹی تھی اس وقت لیکن ہماری ایک رشتہ دار پر اکثر آسیب کا سایہ آیا کرتا تھا اور جب ان پر وہ سایہ آتا تو وہ غصہ کرنے لگتی اور گھر سے بھاگنے لگتیں، ان کے گھر والے انہیں پکڑے بیٹھے رہتے، وہ خاتون سب کو اپنے قریب آنے دیتیں سوائے اپنی والدہ کے، اور جب ان پر سایہ آتا تو والدہ پر خوب غصہ اور چڑھائی کرتیں، ان پر دم کیا جاتا، زم زم کا پانی پلایا جاتا۔ یہ صورتِ حال کچھ دن تک رہتی اور پھر وہ واپس اپنی نارمل حالت میں آجاتی۔ بعد میں انہیں سائیکیاٹرسٹ کے پاس بھی لے کر جایا گیا۔

اس بات کو کئی سال گزر گئے ہیں لیکن نفسیات کو بطور علم پڑھنے کے بعد، ان رشتہ دار کے فیملی ڈائینیمکس (family dynamics) اور بچپن کی ہسٹری کو سمجھتے ہوئے جب ان کے کیس پر نظر ڈالتی ہوں تو وہ تمام مناظر، زم زم کا پانی اور ان پر وظائف کا پھونکنا سب کی سمجھ آنے لگتی ہے، اور کیسے پورا گھر اس رشتہ دار کی ”سائیکوٹک ایپیسوڈ“ (psychotic episode) کے دوران اس کے ارد گرد گھومنے لگتا اور کیسے وہ ہر ایپیسوڈ میں اپنی والدہ پر غصہ کا بھرپور اظہار کرتیں۔ بہت ممکن ہے کہ ان رشتہ دار کو ”ڈی-آئی-ڈی (Dissociative Identity disorder) تھا کیونکہ انکا بچپن بھیانک ٹروما میں گزرا تھا جس میں انکی والدہ کا سب سے بڑا کردار تھا۔

لیکن ایک بات تو طے ہے کہ انسانوں کو ہمیشہ سے ذہنی اذیتوں اور مسائل کا سامنا رہا جسکا علاج ہر ثقافت/دور میں کبھی جھاڑ پھونک، تعویز گنڈے، دم، ٹوٹکے، بابا اور تنتر منتر سے کیا جاتا رہا ہے۔ اور دلچسپ بات تو یہ ہے کہ یہ سب انسانوں پر کسی حد تک کام بھی کرجاتا ہے، لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیسے؟؟ کیسے کچھ لوگوں کو کسی بابا کی جھاڑ پھونک سے آرام آجاتا ہے؟؟ دم، تعویز اور جھاڑ پھونک کس حد تک نفسیاتی مسائل کو ٹھیک کرسکتا ہے؟؟ اور نفسیات اس کے متعلق کیا کہتی ہے آج اس پر بات کریں گے۔

میری کوشش رہتی ہے کہ قدیم علوم اور نفسیاتی مسائل سے نمٹنے کے قدیم طریقہ کار کو غیر جانبداری سے پڑھوں اور اپنی محدود سمجھ کے مطابق ان سے ہونے والے فوائد کو بھی سمجھوں۔ کیونکہ ہر دور میں انسانوں نے موجودہ وقت کے تقاضوں اور سمجھ کے حساب سے ذہنی مسائل سے نمٹنے کے مختلف طریقے ایجاد کیے ہیں، جن میں سے جھاڑ پھونک بھی ایک طریقہ ہے، جھاڑ پھونک ایک انتہائی خطرناک عمل ہوسکتا ہے جس میں ابیوز اور استحصال کو سہنا پڑ سکتا ہے مریض کو، اور میں اسے کسی بھی حال میں تجویز نہیں کرتی۔ البتہ آپ نے دیکھا ہوگا کہ جھاڑ پھونک سے اکثر مریضوں کو وقتی آرام بھی آجاتا ہے، ایسا کیوں ہوتا ہے؟

ویسے تو اسے ”پلاسیبو افیکٹ“ (Placebo Effect) بھی کہہ سکتے ہیں، لیکن پلاسیبو نفسیاتی بیماریوں کے معاملے میں زیادہ تر کام نہیں کرتا، کیونکہ اگر نفسیات میں کوئی تنازعہ (Intrapsychic Conflict) یا الجھن نے جنم لیا ہے تو یقیناً کوئی وجہ رہی ہوگی اور بنا وجہ کو جانے محض پلاسیبو افیکٹ کا استعمال ہر بار اور ہر کیس میں کارآمد نہیں ہوسکتا۔

ہر گھر میں ایک مائیکرو ثقافت (Micro-culture) ہوتی ہے جہاں بسنے والے افراد کو اس ثقافت کے تحت چلنا پڑتا ہے، اب فرض کریں کہ کسی گھر میں والد کا رویہ انتہائی سخت ہے، بچہ ان کے سامنے کچھ بھی کہنے کی ہمت نہیں کرسکتا، ایک غیر فعال خاندان ہے جہاں والدین بچے کو تحفظ دینے سے قاصر ہیں، تو بہت ممکن ہے کہ بڑے ہو کر اس پر ایک ایسے آسیب کا سایہ آئے جو کھل کر غصے کا اظہار کرے۔ وہ والد جو اپنے بیٹے کو نارمل حالت میں غصہ کرنے کی اجازت نہیں دیتے، لیکن اس لڑکے پر جب کسی آسیب کا سایہ آتا ہے تب خاندان کے تمام افراد اس کو نہ صرف توجہ دیتے ہیں بلکہ اس آسیب کی شناخت (identity) کو اپنا کر والد کے سامنے وہ لڑکا باقاعدہ اپنے غصے کا اظہار بھی کرلیتا ہے، جذبات کا انخلاء (catharsis ) ہوتا ہے تو پھر سائیکوٹک ایپیسوڈ کے بعد وہ نارمل ہوجاتا ہے۔ بیٹے کو والد سے اپنی نفرت اور غصے کا اظہار کرنے کی اجازت نہیں البتہ آسیب کو مکمل اجازت ہے، اور آسیب کی بدتمیزی اور گستاخی کا والد برا بھی نہیں مانتے۔

یا پھر عموماً ایسا بھی ہوتا ہے کہ جب بھی کوئی جھاڑ پھونک والے بابا کے پاس جاتا ہے تو بابا اس مریض سے پوچھتے ہیں کہ
”بتا! تو اس لڑکے/لڑکی سے کیا چاہتا ہے“

پھر وہ مریض اس بابا کے سامنے آسیب کے زیرِ اثر اپنی ”خواہش یا جذبات“ کا اظہار کرتا ہے اور یوں بہت ممکن ہے کہ جھاڑ پھونک کے دوران اس مریض کا کیتھارسس ہو اور اسکا سائیکوٹک ایپیسوڈ ٹھیک ہوجائے اور وہ کچھ دنوں تک نارمل محسوس کرنے لگے، اکثر بابا کے پاس جھاڑ پھونک کروانے سے اثر پڑنے کی یہ وجہ بھی ہوتی ہے۔

سگمنڈ فرائیڈ نے انسانی نفسیات کی جو ساخت بتائی ہے اس کے مطابق جب ”اِڈ“ (آپ کی خواہشات) اور ”سوپر-ایگو“ (گھریلوماحول/اخلاقیات/اقدار/ثقافتی اقدار) میں بہت زیادہ تنازعہ موجود ہو تو انسان اضطراب اور نفسیاتی مسائل کا شکار ہوتا ہے۔ جتنا زیادہ نفسیاتی تنازعہ ہوگا اتنے ہی شدید نفسیاتی مسائل ہونگے۔ سگمنڈ فرائیڈ کے مطابق اپنی خواہشات (فرائیڈ جنسی خواہشات کا ذکر کرتے ہیں البتہ محض جنسی نہیں بلکہ ہم نفسیات میں ہر قسم کی خواہشات، جذبات یا احساسات کو اہمیت دیتے ہیں جو ہمارے انسان ہونے کا ثبوت ہے) کو دبانا چونکہ وہ آپ کے گھر یا معاشرے میں ناقابلِ قبول ہیں نفسیات میں اضطراب اور بیماریوں کو جنم دیتا ہے………….اس لیے بابا کے کہنے پر جب مریض آسیب کے زیرِ اثر اپنی ”خواہشات“ یا ”جذبات“ کا اظہار کرتا ہے تو وقتی طور پر سہی لیکن اس کی نفسیات میں ”اڈ“ اور اسکی ”سوپر-ایگو“ کے درمیان کچھ دیر کے لیے سہی البتہ نفسیاتی تنازعہ کم ہوجاتا ہے بابا کی جھاڑ پھونک سے (یہاں بابا بھی ایک قسم کے کاؤنسلر بن جاتے ہیں کچھ دیر کے لیے) اور ان کی واہ واہ ہونے لگتی ہے۔ بابا/مولوی صاحب کے جھاڑ پھونک والے علاج سے کسی مریض کا سائیکوسس (Psychosis) وقتی طور پر دب جاتا ہے تو بابا پر مزید ایمان بھی بڑھنے لگتا ہے۔ لیکن اس پرانے اور قدیم علاج کے ساتھ ایک مسئلہ ہے……

اور وہ یہ کہ اس قسم کا کتھارسس اول تو خطرناک، کنٹرول شدہ اور باضابطہ نہیں، ابیوز اور استحصال کا خطرہ الگ، انتہائی غیر متوقع علاج، اور سب سے اہم یہ کہ ………یہ وقتی ہوتا ہے، کیونکہ بابا انسان کی نفسیات میں اٹھنے والے تنازعہ کی جڑ میں نہیں جاتے کہ آخر مریض کی نفسیات میں سائیکوسس آیا ہی کیوں؟؟ کن حالات سے گزارا ہے وہ مریض؟ فیملی کے حالات کیا ہیں؟؟

جادو، نظر، جھاڑ پھونک، ان سب طریقوں نے انسان کو یقیناً قدیم وقت میں ذہنی اور نفسیاتی مسائل سے نمٹنے میں مدد کی ہوگی جب اسے نفسیات اور دنیا کی پیچیدگی کی زیادہ سمجھ نہیں تھی، جب فرعون بھی اپنی قبر میں سونا اور قیمتی اشیاء رکھواتے تھے کہ شاید جب وہ دوبارہ پیدا ہوں تو وہ سب انکے کام آجائے، البتہ وہ الگ بات ہے کہ وہ ساری قیمتی اشیاء کئی ہزار سال بعد مصر کی حکومت کے ہاتھ لگیں۔

انسان ہونا اس پیچیدہ دنیا میں ہرگز آسان نہیں، جہاں ہمیں اپنے ہی قریبی رشتوں سے پیار نہ ملے، جب ہماری فیملی میں ”نسل در نسل منتقل ہونے والا ٹروما“ (Generational Trauma) موجود ہو، جب ہمیں ہمارے ہی گھر میں خود کی شخصیت اور جذبات کا اظہار کرنے کا موقع نہ ملے، یا والدین بچوں میں تفریق کریں، تو نفسیاتی تنازعات کا جنم لینا طے ہوتا ہے۔

نشونمائی نفسیات (Developmental Psychology) کے مطابق انسان پر صرف جنیات کا اثر نہیں بلکہ ماحول کا اثر بھی ہوتا ہے۔ ہم کھانا پینا، چلنا، زبان، ثقافت یہاں تک کہ سب کچھ ہی پیدا ہونے کے بعد ایک طویل عرصہ سیکھتے رہتے ہیں۔ ماحول ہی ہماری شخصیت کو تشکیل دے رہا ہوتا ہے۔ ایک ہی گھر میں ہر بہن بھائی کے لیے گھر اور والدین مختلف ہوتے ہیں۔ آپ کی وہ بہن یا بھائی جسے والدین سے زیادہ توجہ ملی یا جس کی پیدائش کے بعد مالی حالات بہتر ہوئے آپ کو اپنی اور اس بہن/بھائی کی شخصیت میں واضح فرق نظر آئے گا۔

روحانی سائنس ہو علمِ نجوم یا جھاڑ پھونک اور کالا جادو، ان سب کا کوئی نہ کوئی کردار ضرور رہا ہے انسان کو باہر کی دنیا یا پھر اپنے اندر کی دنیا (نفسیات) میں اٹھنے والے مسائل کو سطحی طور پر سمجھنے اور انکا حل ڈھونڈنے میں، جب آپ کو اپنے ساتھ گھٹنے والے واقعات کی سمجھ نہ آئے تو ”نظر لگ گئی ہے“ یا پھر ”میرا برج تو ٹورس (Taurus) ہے میں تو ایسا ہی ہوں“ جیسے نظریات ہمیں وقتی سہی البتہ ایک ذہنی سکون ضرور فراہم کرتے ہیں کہ ہمارے ساتھ چل رہے مسائل کی وجہ شاید نظر یا ہمارا برج ہے، لیکن ان نظریات سے صرف انسان کا دل بہل سکتا ہے وقتی طور پر البتہ مسائل حل نہیں ہوتے اور اکثر اوقات تو پہلے سے بھی زیادہ بگڑ جاتے ہیں۔

حقیقت کا سامنا کرنا یا پیچیدہ مسائل کو سمجھنے کی لگژری، استطاعت اور صلاحیت ہر کسی کے پاس نہیں، اس لیے معاشرے میں زیادہ تر لوگ جھاڑ پھونک، برج اور ”نظر لگ گئی“ سے ہی گزارا کرلیتے ہیں اور اس میں عام عوام کا زیادہ قصور نہیں۔
زندگی اور دنیا دونوں ہی غیر متوقع اور عدم یقینی کی صورتِ حال پر مبنی ہیں، جبکہ ہم انسانوں کا دماغ ”واقفیت“، ”متوقع نتائج“ اور ”تحفظ“ کو اہمیت دیتا ہے کیونکہ آج سے کئی ملین برس پہلے انسانوں کی بقاء کے لیے واقفیت، گروپ بندی اور تحفظ نہایت ضروری تھا، لیکن آج ہم ایسے دور میں رہ رہے ہیں جہاں ہم واقفیت اور گروپ بندی پر سوال اٹھا سکتے ہیں، ہم یقیناً اگر خوش نصیب ہیں بھی تو بھی یہ ہمارے لیے بحیثیتِ انسان اتنا آسان نہیں۔

یقیناً بطور علم نفسیات کی بھی اپنی حدود ہیں، البتہ میں نفسیات کے علم کو قدیم علوم پر فوقیت دیتی ہوں، کیونکہ یہ انسان کی پیچیدہ نفسیات اور نئے زمانے کے مسائل کو سمجھنے کی صلاحیت رکھتا ہے، بہت ممکن ہے کہ گزرتے وقت کے ساتھ ہم انسان اتنے زیادہ ارتقاء پذیر ہوجائیں کہ نفسیات اور نیوروسائنس سے بھی بہتر علم ایجاد کرلیں، لیکن فی الحال میرا ووٹ نفسیات کو ہی جائے گا اور یہ بیان میں کئی سال قدیم علوم کو پڑھنے اور سمجھنے کے بعد ہی دے رہی ہوں۔

اپنا تبصرہ لکھیں