برجن سٹاک کے بند کمرے، تہران کا جشن اور تل ابیب کا ماتم (3)افتخار گیلانی

سٹاک ریزارٹ کے مشترکہ اعلامیے کے بعد جہاں واشنگٹن اور تل ابیب کے مابین تلخیاں ابھر کر سامنے آئیں، وہی اس معاہدے کے اثرات نے خلیج فارس کے اُمراء اور عرب دارالحکومتوں کو بھی ایک نئی سوچ اپنانے پر مجبور مزید پڑھیں

نور شاہ بھٹ میں بھگت کبیر کی 629ویں جنم جینتی کی تقریبات روحانی وقار اور بین المذاہب ہم آہنگی کے ساتھ اختتام پذیر

(رمیش راجہ) سکھر: سکھر اور روہڑی کے قریب واقع تاریخی و روحانی مرکز نور شاہ بھٹ میں عظیم صوفی سنت بھگت کبیر (1398-1518) کی 629ویں جنم جینتی کے موقع پر منعقد ہونے والی تین روزہ سالانہ روحانی و ثقافتی تقریبات مزید پڑھیں

کربلا کا اصل سبق: مشروع ریاست، خلافت اور اسلامی سیاسی فکر/زاہد سرفراز

کربلا کا واقعہ محض ظلم کے خلاف ایک جذباتی احتجاج نہیں تھا، بلکہ اسلامی ریاست، مشروع اقتدار اور دینی قیادت کے سوال سے جڑا ہوا ایک نہایت اہم تاریخی باب ہے۔ افسوس کہ اس واقعے کی تعبیر میں اکثر جذبات مزید پڑھیں

خطرناک راستوں کا وہ ہولناک سفر: جب زندگی اور موت کا فیصلہ چند لمحوں میں ہوا/سلیم زمان خان

حال ہی میں بی بی سی اردو پر شائع ہونے والی ایک دل دہلا دینے والی خبر نے روح تک کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا ہے۔ یہ واقعہ کراچی سے تعلق رکھنے والے ایک تاجر، علی مرتضیٰ جمیل کا ہے مزید پڑھیں

برجن سٹاک کے بند کمرے، تہران کا جشن اور تل ابیب کا ماتم (2)-افتخار گیلانی

اگر آبنائے ہرمز مزید دس دن بند رہتی، تو امریکہ میں گیسولین کی قیمتیں دوگنی ہو جاتیں، جس کا سارا ملبہ نومبر میں ہونے والے امریکی مڈٹرم الیکشن پر گرتا۔ ٹرمپ نے بعد میں خود اس کا اعتراف ان الفاظ مزید پڑھیں

پرکالا پربھاکر سے اشعر نجمی تک: نئے ہندوستان کی مخدوش جمہوریت کا نوحہ/فیاض احمد وجیہہ

اشعر نجمی کی کتاب چھوٹے چھوٹے سبق کی طرح جمہوریت کے مکمل نصاب کا احاطہ کرتی ہے اور انتخابی آمریت کے قوی ہیکل دیو کے حشر کی کہانی بھی کہتی ہے۔ اشعر نجمی کی کتاب ’انتخابی آمریت-اکیسویں صدی میں جمہوریت مزید پڑھیں

دشتِ امکاں اور کنڈیالی تھور:اردو اور پنجابی شاعری میں مقامیت اور فطرت نگاری(2,آخری حصّہ)-ظفر سید

پنجابی اردو کا ذو لسان شاعر میں نے اس تحریر کے شروع میں عرض کیا تھا کہ پنجابی کی مقامیت اور اردو کی عجمی ’خارجیت‘ بعض اوقات ایک ہی شاعر کے ہاں دکھائی دیتی ہے۔ مجھے نہ تو اتنی پنجابی مزید پڑھیں

دشتِ امکاں اور کنڈیالی تھور: اردو اور پنجابی شاعری میں مقامیت اور فطرت نگاری(1)-ظفر سید

کیا وجہ ہے کہ ایک شاعر جب اردو میں لکھنے کی سوچتا ہے قلم اٹھاتے ہی کائنات، زمان و مکان، خدا، تقدیر، ازل و ابد اور فنا و بقا کے ’آفاقی‘ رتھ پر سوار ہو جاتا ہے، اور ایسی تجریدی، مزید پڑھیں