نئے صوبے: پاکستان کی تقسیم یا ریاست کی توسیع؟- رانا جی جعفر

“یہ جبرِ مسلسل ہے، نہ دیوار کھڑی کر آبادی بڑی ہے تو نئے گھر کی بنیاد رکھ” کبھی کبھی قومیں نقشے نہیں بدلتیں، اپنے رہنے کا انداز بدلتی ہیں۔ گھر وہی رہتا ہے، مگر جب افراد بڑھ جائیں، ضرورتیں بدل مزید پڑھیں

لیاری کو اس کی جگہ واپس دیں، ورنہ دریا اپنی جگہ خود بنا لے گا/انجینئر رمیش راجا

شہر دریا نہیں بناتے، دریا شہروں کو جنم دیتے ہیں۔ مگر جب شہر پھیلتے پھیلتے دریاؤں کی گزرگاہیں چھین لیتے ہیں تو ایک دن یہی دریا اپنے وجود کا حساب مانگتے ہیں۔ کراچی آج اسی امتحان کے دہانے پر کھڑا مزید پڑھیں

مادی ارتقاء سے روحانی لطافت تک: (ہلکے پن کا عالمگیر سفر اور قرآن کریم کی حکمت) -ابنِ سلطان

مقدمہ اور بنیادی فکری نکتہ: کائنات کا مطالعہ ہمیں یہ بتاتا ہے کہ ہر شے ایک مسلسل ارتقائی سفر سے گزر رہی ہے۔ اگر ہم قرآن کریم کی الٰہی حکمت اور اس کائنات کے فطری اصولوں کو سامنے رکھیں تو مزید پڑھیں

کاغذوں میں اقلیتی کوٹہ، لیکن سرکاری دفاتر میں کہاں ہیں اقلیتیں/کلاونتی راج

پاکستان کے قیام کے ساتھ ایک نئی ریاست نے جنم لیا، مگر اسے صرف ایک نیا پرچم، نیا آئینی و انتظامی ڈھانچہ اور نئی سرحدیں ہی ورثے میں نہیں ملیں۔ اسے ایک ایسا معاشرہ بھی ورثے میں ملا جو صدیوں مزید پڑھیں

سندھ کی تاریخ خاموشی کی نہیں، مسلسل مزاحمت کی تاریخ ہے / عمر شاہد

نامور صحافی اور تجزیہ کار عامر متین کی جانب سے سندھ کی تاریخی حدود اور آبادیاتی ساخت کے حوالے سے پیش کیا گیا حالیہ نقطہ نظر اور مؤقف “سندھ کی نوآبادیاتی اور طبقاتی تاریخ کی غیر متوازن تعبیر ہے جو مزید پڑھیں

محسن نقوی کولیپس نظام کا بے تاج بادشاہ /شیر علی انجم

سابق نگران وزیرِ اعلیٰ پنجاب اور موجود وزیر داخلہ سید محسن رضا نقوی کا تعلق جھنگ کے سید گھرانے سے ہے۔انہوں نے گورنمنٹ کالج لاہور سے گریجویشن کرنے کے بعد امریکہ کی یونیورسٹی آف اوہائیو سے صحافت میں ماسٹر ڈگری مزید پڑھیں

پاکستانی طرز کا لبرل فیمینزم اور تشدد کا بیانیہ/قیس انور

’پاکستانی طرز کے لبرل فیمینزم ‘کی نمایاں سوشل میڈیائی شکلوں کا خمیر اسی ’پاکستانی طرز کے لبرلزم‘سے اٹھا دکھائی دیتا ہے جو پیچیدہ سماجی مسائل کو اکثر ایک سادہ دوئی (binary) میں تبدیل کر دیتا ہے، اس میں ایک فریق مزید پڑھیں

سلگتے اشارے: حکومت کے لیے ایک عینی آئینہ / رانا جی جعفر

تاریخِ انسانی کا تعمق سے مطالعہ کیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ سماجی اضطراب اور اجتماعی احتجاج کی نوعیت ہمیشہ ایک جیسی نہیں ہوتی۔ خطے کے حالیہ سیاسی و سماجی تحرک کو اگر فکری اور علمی تناظر میں دیکھا مزید پڑھیں