غزل در احساس سے گزارے ہوئے ہم تری قربتوں کے مارے ہوئے جیتنے والے مطلبی نکلے میز کے گرد سب ہیں ہارے ہوئے دن کے جنگل میں خواب بکھرے تھے رات چٹکی تو جمع سارے ہوئے !تیری جھولی میں ڈال مزید پڑھیں
اس کیٹا گری میں 11 خبریں موجود ہیں
یہ عنوان ہے اس کتاب کا جو اس سال شکیب جلالی کی زندگی اور شاعری پر مصنفین کی تثلیث یعنی امیر حسین جعفری، ڈاکٹر خالد سہیل اور حسین اقدس رضوی (شکیب جلالی کے فرزند ارجمند ) نے مل کرلکھی ہے مزید پڑھیں
شکر سے بنی لڑکی۔۔ وہ کیسی لڑکی تھی۔ بہت چینی میٹھا کھاتی تھی۔ ساری شکر ساری مٹھائیاں اور بہت سارے میٹھے آم ۔ وہ سارا میٹھا کھا جاتی تھی۔ ماں اس سے چھپاکر مٹھائی رکھتی تھی۔ پر وہ بڑی رسیا مزید پڑھیں
کمرے میں رات سرسرا رہی ہے، اور مجھے یوں محسوس ہوتا ہے جیسے دیواروں کے اندر کوئی خاموش سانس چل رہی ہو۔ دن بھر کی تھکن صرف جسم میں نہیں، میرے وجود کے کسی دھندلے گوشے میں بھی آ ٹھہری مزید پڑھیں
کیا کیجئیے کہ ؛ ایک تو ہمیں محبت ہوجاتی ہے۔ بہت جلدی ہو جاتی ہے ۔ ہر ایک سے ہو جاتی ہے۔ اور بہت شدید ہوتی ہے۔ کیا جھیل، کیا دریا، سمندر اور پہاڑ۔ اونچے درختوں کی اوٹ سے جھانکتے مزید پڑھیں
میتھ اور اڑتے پاپڑ۔ ایک بہت نامور معیاری سرکاری ہائ سکول میں میتھ پڑھاتی تھیں۔ وہ ایک عام صورت عورت تھیں۔ مگر ان کی آواز تھی یا حلاوت اور لجاہت کا شربت گھولتی۔ کبھی میتھ کی ٹیچر نرم آواز نہیں مزید پڑھیں
رینو ویشن ۔۔ دیکھ لیا بہت دیر تک ایک خوش گمان، خوش جمال؛ منظر ،پس منظر۔ خوبصورت تھا بہت ، اچھا بھی تھا۔ کٹ گیا ،ہٹ کر نظروں سے؛ نظر میں ٹھہر گیا۔ اب پامال رہ گذاروں سے پاتال رستوں مزید پڑھیں
عشق الجبرا ۔ ۔۔۔۔ تمہیں کیا پتہ اے عشق لاپتہ! بڑے پتے کی یہ بات ہے۔ جس شوق سے چلا تھا یہ ؛ اسی شوق میں ہے آج بھی یہ سلسلہ۔ سفر میں ہے تو سہی مگر ؛ کچھ بدحواس مزید پڑھیں
ایک آوارہ نظم ۔۔ ہڑپ کا تماشہ۔۔ پیسہ بہت ضروری ہے۔ ہم بہت سے کچے پیسے جمع کرکے ان کو پھانک لیتے ہیں۔ پھر کچے پیسے ہمارے پکے ہوئے جسم کھا جاتے ہیں ۔ ہم چیزوں اور لوگوں کو استعمال مزید پڑھیں
باہمی فنا کاری باہمی بقا اور عالمی محبت کے پاسداروں کو کیا معلوم کہ؛ ہم سب مرے ہوئے لوگ ہیں ہم کچھ نہیں سوچتے۔ سوچتے ہیں تو کچھ نہیں بولتے ، بولتے ہیں تو کچھ نہیں تولتے، تولتے ہیں تو؛ مزید پڑھیں
